ہندوستان اور امریکہ اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں اور آنے والے دنوں کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے ہندوستان پر ٹیرف لگانے کے لیے 2 اپریل کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے پہلے، اسسٹنٹ امریکی تجارتی نمائندے برینڈن لنچ کے مذاکرات کے لیے دہلی آنے کی توقع ہے۔ ان کا یہ سفر مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل کے ممکنہ ٹیرف سے متعلق بات چیت کے لیے امریکہ کے دورے کے بعد ہو رہا ہے۔ 13 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی دو طرفہ میٹنگ کے بعد ہندوستان اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کے درمیان اسسٹنٹ امریکی تجارتی نمائندے برینڈن لنچ کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔
بعد ازاں امریکی نائب صدر جے ڈی وانس خاتون ثانی اوشا وانس کے ساتھ ہندوستان کا سفر کرنے والے ہیں۔ فرانس اور جرمنی کے حالیہ دورے کے بعد یہ وانس کا دوسرا بیرون ملک دورہ ہوگا۔ اوشا وانس کے لیے، جن کے والدین ہندوستان سے ہجرت کرکے امریکہ گئے تھے، بطور خاتون ثانی (سیکنڈ لیڈی) ہندوستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ فروری میں اپنے امریکی دورے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے AI ایکشن سمٹ کے موقع پر پیرس میں وانس سے ملاقات کی تھی۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا بھی دورۂ ہندوستان متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بھارت پر ٹیرف کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ وہیں ہندوستان نے کہا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور بی ٹی اے کے لئے ایک فریم ورک قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے ’’امریکہ اور ہندوستان اشیا اور خدمات کے شعبوں میں باہمی تجارت کو مضبوط اور گہرا کرنے کے لیے ایک مربوط نقطۂ نظر اختیار کریں گے۔ وہ مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم کرنے اور سپلائی چین کے انضمام کو گہرا کرنے کے لیے کام کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


