Bharat Express DD Free Dish

Trinamool Congress

الیکشن کمیشن نے ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 

پیر کے روز مغربی بنگال میں اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کی قیادت میں ایک باغی گروپ نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے لیے نئی قیادت کے ڈھانچے کا اعلان کیا تھا۔ باغیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پارٹی میں سرپرست (مینٹور) کا کردار ادا کریں۔

باغی ارکان کے حوالے سے مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں، تب بھی انہیں حاصل کیا ہوگا؟ وہ صرف الگ نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

سیاسی حلقوں میں گزشتہ چند دنوں سے یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ ترنمول کانگریس کے دو راجیہ سبھا اراکین استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ان ناموں میں شکھیندو شیکھر رائے کے علاوہ اداکارہ اور حال ہی میں راجیہ سبھا پہنچی کوئل ملک کا نام بھی شامل تھا۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کوئی نیا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ محض الیکشن کمیشن آف انڈیاکے وکیل کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 13 اپریل کے سرکلر پر عمل درآمد کیا جائے گا،

سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے مطابق انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کیں، جن میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکتہ پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ کے ایم سی کمشنر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی مداخلت سے نیت اور وقت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

ٹی ایم سی نے الزام لگایا کہ یہ ویڈیوز صرف ذاتی حملہ نہیں بلکہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ جینا کی جانب سے استعمال کی گئی زبان انتہائی فحش اور نفرت انگیز ہے، جو ایک آئینی عہدے پر فائز خاتون کی توہین ہے۔

کیرتی آزاد نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرافی کو کسی عبادت گاہ میں لے جانا تھا تو پھر اسے مسجد، چرچ یا گردوارے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ محمد سراج کبھی ٹرافی کو مسجد نہیں لے گئے اور نہ ہی سنجو سیمسن اسے چرچ لے کر گئے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کا ’’جائز مطالبہ‘‘ صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست نے بی جے پی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے بیان کے مطابق ’’ہر انتخابی موسم میں وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ بنگال آتے ہیں اور ہمارے لوگوں، ثقافت اور مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ محض دکھاوا ہے۔ بنگلا مخالف عناصر کو ہماری زبان، ہماری شناخت اور ہمارے وقار کی کوئی پروا نہیں۔‘‘