Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court: بنگال انتخابات کی گنتی کو لے کر پرسپریم کورٹ کے فیصلے پر بی جے پی کا پہلا ردعمل

سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج اور ووٹوں کی گنتی کے عمل کو لے کر سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ اسی دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈرسُدھانشو ترویدی نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے انتخابی عمل آگے بڑھا، ویسے ویسے ٹی ایم سی کا سیاسی حوصلہ کمزور ہوتا گیا اور عوامی حمایت میں بھی کمی محسوس کی گئی۔سُدھانشو ترویدی کے مطابق جب انتخابات نسبتاً پرامن ماحول میں مکمل ہوئے تو ٹی ایم سی میں بے چینی بڑھ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایگزٹ پولز کے نتائج کے بعد پارٹی کے اندرونی توازن بھی متاثر ہوا، جس کے بعد ٹی ایم سی نے پورے انتخابی عمل پر سوال اٹھانا شروع کر دیا۔

بی جے پی لیڈر سُدھانشو ترویدی نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی بار بار عدالتوں سے رجوع کرتی ہے، لیکن اسے اکثر ریلیف نہیں ملتا۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں دائر ایک درخواست بھی مسترد کر دی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے دعوے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایم سی کو مرکزی حکومت کے اداروں پر اعتماد نہیں، جب کہ وہ ریاستی سطح کے نظام پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے آئی-پیک سے متعلق ایک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چھاپے کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا خود موقع پر پہنچنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ ٹی ایم سی کو اپنے ہی انتظامی ڈھانچے پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔سُدھانشو ترویدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عوام کے درمیان ممتا بنرجی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں خوف اور دباؤ کی سیاست کے ذریعے اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش اب کمزور پڑ رہی ہے اور اس کا اثر انتخابی نتائج پر بھی نظر آئے گا۔

سُدھانشو ترویدی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی جانب سے بار بار آئینی اداروں پر سوال اٹھانا جمہوری نظام کے لیے مناسب نہیں اور اس سے سیاسی و اخلاقی دونوں سطحوں پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات دو مراحل—23 اور 29 اپریل—کو مکمل ہوئے تھے۔ اب تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی نظریں آنے والے نتائج پر مرکوز ہیں، جو 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئیں گے اور ریاست کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read