نئی دہلی: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں مبینہ بغاوت اور بعض لیڈروں کے پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے باغی گروپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں 20 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ مہوا موئترا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر واقعی اتنی بڑی تعداد ان کے ساتھ ہوتی تو اب تک اس کا واضح ثبوت سامنے آ چکا ہوتا۔ایک انٹرویو کے دوران سشمیتا دیو کے استعفے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات پر بات کرتے ہوئے مہوا موئترا نے کہا کہ تعداد ثابت کرنے کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اس طرح کے دعوے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس 16 یا 20 ارکانِ پارلیمنٹ ہیں، تو یہ ثابت کرنا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ اگر واقعی ان کے ساتھ 20 ارکان ہوتے تو اب تک کوئی خط منظرِ عام پر آ جاتا اور بی جے پی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی ہو چکی ہوتی۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ نہیں ہیں۔”
مہوا موئترا نے مزید کہا کہ صرف چند ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک ساتھ ہو جانے سے دلبدل مخالف قانون کے تحت کوئی الگ گروپ یا دھڑا تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی کے کم از کم دو تہائی منتخب نمائندے الگ ہو کر کسی دوسری جماعت، مثلاً بی جے پی، میں شامل ہوں۔انہوں نے واضح کیا کہ دلبدل مخالف قانون سے بچنے کے لیے صرف پارلیمانی پارٹی نہیں بلکہ پوری سیاسی جماعت کے دو تہائی منتخب ارکان کا الگ ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی انہیں ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ گروپ کا درجہ مل سکتا ہے۔
باغی ارکان کے حوالے سے مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں، تب بھی انہیں حاصل کیا ہوگا؟ وہ صرف الگ نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا یا اسمبلی میں کسی نئے بلاک یا گروپ کو تسلیم کیے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مہوا نے مزید کہا کہ باغی ارکان چاہیں تو خود کو “کاکولی کانگریس”، “شتابدی کانگریس” یا “بی جے پی کی بی ٹیم” کہہ سکتے ہیں اور الگ بیٹھ سکتے ہیں، لیکن اس سے ان کا سیاسی مستقبل متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق اگر وہ بی جے پی کی حمایت میں ووٹ دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے، تاہم اس کے نتائج بھی انہیں ہی بھگتنے ہوں گے۔
دوسری جانب باغی رکنِ پارلیمنٹ کاکولی گھوش دستیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا گروپ این ڈی اے کی حمایت کا فیصلہ کر چکا ہے اور انہیں تقریباً 20 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط بھی بھیجا جا چکا ہے اور الگ گروپ کے طور پر بیٹھنے کے لیے خصوصی انتظامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ٹی ایم سی کے اندر جاری یہ سیاسی رسہ کشی مغربی بنگال کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر رہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


