Bharat Express DD Free Dish

Terrorist attack

جکارتہ میں جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کے دوران ایک مسجد میں دھماکے کا واقعہ پیش آیا۔ اس دھماکے میں 55 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ ایک اسکول کے احاطے میں واقع مسجد کے اندر ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، چند گولیاں چلنے کے بعد خیمے میں آگ لگ گئی۔ یہ خیمہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران صدر الیگزینڈر وُوچچ کے حامیوں کی جانب سے لگائے گئے کئی خیموں میں سے ایک تھا۔ بتایا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ نے فوری طور پر آگ پر قابو پا لیا۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیراورآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے بھارت ایکسپریس سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ہم نے سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی فتویٰ دیا تھا۔ اسلام اور مسلمانوں سے دہشت گردی کو جوڑنا بہت بے حیائی کی بات ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مذہب اسلام کو بدنام نہیں کیا جانا چاہئے۔

امیر، جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ ہم جنوبی کشمیر کے پہلگام میں منگل کے روزہونے والے بدترین دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں بے گناہ جانوں کا جانا، جن میں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔

 بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 90 پاکستانی فوجی مارے گئے ہیں۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنی کارروائی قرار دیا۔

پولیس نے بتایا کہ دہشت گردوں سے بس اسٹیشن پرکئی لوگوں کو پہلے کچلا، پھر دوسرے لوگوں پرچاقو سے حملہ کیا۔ زخمی لوگوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا ہے۔ اس بار دہشت گردوں کے اس حملے نے پاکستان کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گرینیڈ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال (ایس ایم ایچ ایس) میں داخل کرایا گیا۔ ایس ایم ایچ ایس کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر تسنیم شوکت نے بتایا کہ زخمیوں میں آٹھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال نازک ہوتی جا رہی ہے کیونکہ گزشتہ چند مہینوں میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں خاص طور پر کئی سکیورٹی پوسٹوں، قافلوں اور اہلکاروں پر منظم حملے ہوتے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر عائد کی گئی ہے۔

ایل او سی کے قریب بوٹاپتھر گلمرگ کے ناگن پوسٹ علاقے کے قریب فوج کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ حالانکہ فوج کی جانب سے تصدیق کا انتظار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دراندازی کی کوشش ہو سکتی ہے۔