Bharat Express DD Free Dish

Tehran

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”

ایرانی عوام کے نام اپنے پیغام میں امریکی صدر نے ایران کو ایک عظیم ملک قرار دیا۔ جب ان سے حکومت مخالف مظاہرین کے لیے پیغام کے بارے میں پوچھا گیا، تو ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عوام کو آزادی کے اپنے یقین پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دنوں تک حملے جاری رہے جس سے دونوں ممالک کے انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا تو امریکہ زیادہ سوچے سمجھے بغیر دوبارہ ایران پر بمباری کرے گا۔

آئی ڈی ایف نے کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو نقصان پہنچانے کی اپنی کارروائی کے تحت تہران میں ایس پی این ڈی کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا۔ IDF نے کہا، ’’SPND ہیڈکوارٹر کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جسے 2011 میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی فخری زادہ نے قائم کیا تھا۔‘‘

کانگریس لیڈر سریندر راجپوت نے پی ایم مودی کے کینیڈا دورے پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کو کینیڈین وزیر اعظم کو بتانا ہو گا کہ آپ کو سکھ علیحدگی پسندوں کے بارے میں اپنا رویہ بدل کر انہیں ہندوستان کے حوالے کرنا ہو گا۔

اطلاعات کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والے تین ہندوستانی شہریوں کی شناخت جسپال سنگھ، ہشن پریت سنگھ اور امرت پال سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ یکم مئی کو تہران پہنچنے کے فوراً بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر وہ ایک مقامی ٹریول کمپنی کی طرف سے منافع بخش ملازمت کی پیشکش کے لالچ میں آ کر آسٹریلیا جا رہے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت سے انکار کیا تو وہ اس پر ’بے مثال فوجی حملہ‘ کریں گے۔

7 اکتوبر 2023 کو حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ جواب میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے اپنی ایک خبر میں بتایا ہے کہ حادثہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 335 کلومیٹر جنوب مشرق میں تباس میں واقع کوئلے کی کان میں ہفتے کی رات گئے پیش آیا، جس میں 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام نے ہنگامی عملے کو جائے وقوعہ پر روانہ کر دیا ہے۔ حادثے کے وقت کان میں تقریباً 70 افراد کام کر رہے تھے۔