Bharat Express DD Free Dish

supreme court of india

سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ کو 1990 کی حراستی موت کے کیس میں سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملی اور عدالت عظمیٰ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، البتہ اپیل پر جلد سماعت کی ہدایت دی

سپریم کورٹ کے ایک ایڈوکیٹ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹرمنی کو بھیجے گئے خط میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ یوپی کے سابق آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر نے بھی سپریم کورٹ میں اس معاملے میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے بھی اٹارنی جنرل کو اجازت کے لیے خط بھیجا ہے

سپریم کورٹ نے چائلڈ ٹریفکنگ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے اسپتال سے بچہ چوری پر لائسنس منسوخی کا حکم دیا، اور ملزمان کی ضمانت بھی منسوخ کر دی۔ ریاستی حکومتوں کو سخت ہدایات دی گئیں

تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) کے صدر اور مشہور تمل اداکار وجے نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔

جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے اس معاملہ پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ وقف قانون آئین ، سیکولرازم اورملک کے امن واتحادکے لئے ایک بڑاخطرہ :مولانا ارشدمدنی

سپریم کورٹ نے یوتھ فار ایکویلٹی کی طرف سے داخل عرضی کا نمٹارا کرتے ہوئے کہا کہ او بی سی ریزرویشن کو لے کر کوئی رخنہ نہیں ہے۔ یعنی او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کا راستہ صاف ہو گیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اتر پردیش میں جو ہو رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ روزانہ دیوانی مقدمات کو مجرمانہ مقدمات میں بدلا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے رویہ پر عدالت عظمیٰ نے سخت تبصرہ کرنے کے ساتھ ہی آئندہ اس طرح کے معاملے سامنے آنے پر جرمانہ لگانے کی تنبیہ بھی کی۔

عدالت عظمیٰ نے نے متاثرین کو راحت دیتے ہوئے گھروں کو پھر سے بنانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ سال 2021 میں وکیل ذوالفقار حیدر، پروفیسر علی احمد اور دیگر دو بیواؤں کے گھروں کو بلڈوزر سے توڑ دیا گیا تھا۔

جسٹس باغچی کو 27 جون 2011 میں کلکتہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ 4 جنوری 2021 میں آندھراپردیش ہائی کورٹ میں ان کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ جسٹس باغچی کو 8 نومبر 2021 کو کلکتہ ہائی کورٹ میں واپس بھیجا گیا اور اس وقت سے وہ وہیں تعینات ہیں۔

سپریم کورٹ نے مبینہ عصمت دری کیس میں ایک سابق فوجی افسر کے خلاف دائر چارج شیٹ منگل کو خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ یہ ’یہ قانونی عمل کا غلط استعمال ہے‘۔