Bharat Express DD Free Dish

Sudan Civil War

سوڈان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے شیبل سہبانی نے کہا کہ یہ حملے ایسے وقت میں صحت خدمات تک رسائی کو مزید کم کر دیتے ہیں جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے ایک ہفتے بعد بھی شہریوں کے خلاف ہلاکتوں، اغوا اور جنسی تشدد کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے بتایا کہ صورتحال نہایت سنگین ہے اور شہری آبادی، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آدرش بہیرا 2022 سے سوڈان میں سکراتی پلاسٹک فیکٹری میں کام کر رہے تھے۔آدرش کی اہلیہ سشمیتا بہیرا نے بتایا کہ ان کے شوہر گزشتہ دو سال سے سوڈان میں مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں

یو این ایس سی نے اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ تنازع اور عدم استحکام کو بڑھانے والی کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کریں، مستقل امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت کریں، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل کریں۔

او سی ایچ اے نے کہا کہ دارفر کے علاقے میں ہیضے کا پھیلاؤ جاری ہے۔ صرف شمالی دارفر میں جون کے آخر سے اب تک 3,600 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنوبی دارفر میں 1200 سے زیادہ مشتبہ کیسز اور 69 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ صاف پانی، صفائی ستھرائی اور طبی سامان تک محدود رسائی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اس لئے اعداد و شمار کی حقیقت زیادہ ہوسکتی ہے۔

جمعرات کے روز، ریپڈ سپورٹ فورسز نے جنوبی کورڈوفان میں الدیبات اور مغربی کورڈوفان میں الخیوائی شہروں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا۔ سوڈانی فوج نے ابھی تک اس دعوے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ سوڈان اپریل 2023 سے SAF اور RSF کے درمیان تنازعہ میں گھرا ہوا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور لاکھوں سوڈان کے اندر اور اس کی سرحدوں کے پار اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

اپریل 2023 کے وسط سے سوڈان میں ایس اے ایف اور آر ایس ایف کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق 15 ملین سے زائد افراد اس تنازعے کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

'جنرل کوآرڈینیشن آف ڈسپلیسڈ پرسنز اینڈ ریفیوجیز' نامی تنظیم کے مطابق حملے جمعرات کو شروع ہوئے اور ہفتے تک جاری رہے، اس حملے  میں گھرافرادکو، بازاروں کو اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی ہلک ہوئے۔ تنظیم نے ان حملوں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔

سوڈانی بحران کا حل لڑائی کو روکنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ردعمل کو مضبوط بنانے میں ہے: سعودی عرب

سوڈانی فوج اور 'آر ایس ایف' کے اہلکار دونوں ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔ نیز طبی کارکنوں اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔جس علاقے میں پیر کے روز شدید گولہ باری کی گئی ہے۔