Bharat Express DD Free Dish

Students Protest

جنترمنتر پرہوئے احتجاجی مظاہرہ کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار کے لئے مضبوط قانونی سیکورٹی اور واضح گائیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں تشدد بھڑکانے والوں کے احتساب اورپولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لئے یکساں رہنما خطوط تیارکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بہار کی سمراٹ چودھری کی  حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 26 جولائی کی شام 6 بجے تک درج سبھی معاملات میں گرفتاراورزیر حراست افراد کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ترجمان سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا- "ہمیں متعدد رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں کہ آسام، مغربی بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں مختلف سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ طلباء اور دیگر مظاہرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حراست میں لیا جا رہا ہے یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر گہری تشویش ہے،" سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا۔

نیٹ پیپر لیک تنازع کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک ہائی پاورڈ ٹاسک فورس تشکیل دی ہے، جس کی قیادت نندن نیلیکنی کریں گے۔

پولیس کے مطابق، بہاربند کا اثرریاست کے مختلف علاقوں میں ملا جلا رہا۔ پٹنہ میں پتھراؤ کے واقعات پیش آئے، جبکہ نالندہ، نوادہ، جہان آباد اورروہتاس اضلاع میں بند کا اثرنسبتاً کم رہا۔ دوسری جانب تیج پرتاپ یادو نے ہفتہ کے روزکاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے سے بہارآنے اورسمراٹ چودھری کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدے سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان پیڑھی اور طالب علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپر لیک کے خلاف سدھار کے لئے پابندعہد ہے۔

فلم ساز اور سپر اسٹار رجنی کانت کی چھوٹی بیٹی سوندریا رجنی کانت ان دنوں طلبہ کی حمایت میں دیے گئے اپنے بیان کے سلسلے میں خبروں میں ہیں۔ انہوں نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی آواز کو عزت، وقار اور حساسیت کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔

 نیٹ امتحان پیپرلیک سے متعلق پورے ملک میں ہو رہے احتجاج سے حکومت بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔ اسی ضمن میں وزارت تعلیم آج رات 8 بجے بڑا اعلان کرنے والی ہے۔ اس سے طلبا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

بہار میں پیپر لیک معاملے پر طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ نوادہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کی سکیورٹی اچانک سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ضلع کے ایس پی خود سڑکوں پر اتر کر حالات کی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کی کمان سنبھال رہے ہیں۔