Bharat Express DD Free Dish

Russia-Ukraine Crisis

ہندوستانی فضائیہ، وزارت خارجہ اور دیگر ایجنسیوں نے مل کر اس مشن کو پورا کیا۔ ریسکیو آپریشن نے نہ صرف اس بات کو یقینی بنایا کہ زخمی فوجی کو انتہائی مشکل حالات میں ہندوستان لایا گیا بلکہ راستے میں جدید ترین طبی امداد بھی فراہم کی گئی۔

اس طرح کی افواہیں پھیلانے کے بعدوزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "ہم نے رائٹرز کی خبر دیکھی ہے۔ یہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ یہ بھارت کی طرف سے خلاف ورزی کی بات کہی گی ہے، جب کہ ایسا کچھ نہیں ہے،

ایک نئی  رپورٹ میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول روس جنگ کے پرامن حل پر بات چیت کے لیے ماسکو جائیں گے۔روس اور یوکرین بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بھارت اس جنگ کو سفارتی ذرائع سے ختم کر سکتا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ ہندوستان اور یوکرین نے چار اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ دونوں ممالک نے انسانی امداد، زراعت، طبی اور ثقافتی شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی یوکرین کے دورے پر ہیں۔ وہ جمعہ کی صبح پولینڈ سے براہ راست ٹرین کے ذریعے کیف پہنچے۔

وزیراعظم نریندر مودی ان دنوں پولینڈ اور یوکرین کے دورے پر ہیں۔ پولینڈ کا سفر مکمل کرنے کے بعد آج وہ ٹرین کے ذریعے 10 گھنٹے کا سفر کرکے یوکرین پہنچ گے۔

زیلنسکی کا بیان روس کے کرسک اوبلاست میں یوکرین کی سرحد پار سے دراندازی کا پہلا عوامی اعتراف ہے، جو مبینہ طور پر 6 اگست کو شروع ہوا تھا۔ یوکرین کی فوج کی دراندازی نے روس کو جھٹکا دیا ہے۔

سابق امریکی صدر نے گزشتہ روز یوکرینی صدر زیلنسکی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور روس کی جنگ میں بے شمار معصوم لوگ مارے گئے۔ٹرمپ کہنا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے وعدہ کیا۔

ماسکو کی سکیورٹی سروسز سے منسلک روسی آؤٹ لیٹس بازا اور کومرسنٹ کی رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ ان کی اہلیہ کی لاش بھی ملی ہے۔ سویریدوف کی موت میں تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ملاہے۔ کریملن نے سابق روسی جنرل کی موت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق دونوں کی لاشیں اینڈجیوسکی گاؤں میں ان کے گھر کے بستر پر ایک ساتھ ملیں۔

جوبائیڈن نے کہا کہ ہم جمہوری اصولوں کا دفاع کرنے کے لیے جارحیت اور دھمکیوں کو پیچھے دھکیل دیں گے،کیونکہ یہ دہائیوں تک سلامتی اور خوشحالی کے تحفظ میں مدد کرتا ہے۔ لیکن ہم چین کے ساتھ ان مسائل پر بھی مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں ترقی کا انحصار مشترکہ کوششوں پر ہے۔‘‘

کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو اپنے ملک کے سلامتی کے دفاع کے لیے روس کی "مقدس لڑائی" کے لیے "مکمل اور غیر مشروط حمایت" کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ پیانگ یانگ "سامراج مخالف" محاذ پر ہمیشہ ماسکو کے ساتھ کھڑا رہے گا۔