Bharat Express DD Free Dish

Revanth Reddy

پی ایم مودی نے دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے۔ تلنگانہ کے سی ایم ریونت ریڈی نے پی ایم مودی کو ریاست کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو کسی قسم کی تکلیف یا جان و مال کے نقصان کے بغیر تیزی سے کام کر رہی ہے۔

تلنگانہ کے وزیر اعلی ریونت ریڈی نے دہلی شراب پالیسی اسکام کیس میں بی آر ایس لیڈر کے پر الزام لگایا ہے۔ کویتا کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ جس پر عدالت نے وزیراعلیٰ کی سرزنش کی۔

حیدرآباد پرانے شہر میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضہ ہٹانے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی بھی اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مہم میں اکبرالدین اویسی کے مبینہ غیرقانونی تعمیرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسد الدین اویسی کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پریہ لکھاگیا’ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے ہم اپنے حوصلے بلند رکھیں اور بزدلی کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر اکبر الدین اویسی کانگریس کے ٹکٹ پر کوڈنگل سے الیکشن لڑتے ہیں تو ان کی جیت کو یقینی بنانا میری ذمہ داری ہوگی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں ترقی یافتہ ہندوستان سے متعلق ویژن پیپر پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق اس میٹنگ کا مقصد مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان باہمی نظم و نسق اور تعاون کو فروغ دینا

درج فہرست ذات (ایس سی) ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بجٹ اخراجات میں زبردست کمی کی گئی ہے۔ پچھلے سال اس محکمہ کا بجٹ 21,072 کروڑ روپے تھا جو اب گھٹ کر 7,638 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ اسی طرح قبائلی بہبود کے محکمے کی مختص رقم کو 4,365 کروڑ روپے سے گھٹا کر 3,969 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔

ٹیم انڈیا کے اسٹار تیزگیند بازمحمد سراج کے لئے تلنگانہ کی حکومت نے بڑا اعلان کیا ہے۔ محمد سراج کوگھرکے لئے ایک پلاٹ اورسرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ مرکزی وزراء سے ملاقات کر رہے ہیں اور ان سے مناسب بجٹ مختص کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تلنگانہ حکومت نے ابھی تک ریاستی نشان کے تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر چارمینار اور کاکتیہ آرچ کو نشان سے ہٹا دیا جاتا ہے تو تلنگانہ کی شناخت مٹنے کا اندیشہ ہے۔