Bharat Express DD Free Dish

Red Fort

امت شاہ نے اپنے خطاب میں مذہب تبدیلی کے مسئلے پر بھی دوٹوک موقف اختیار کیا۔ انہوں نے بغیر کسی تنظیم یا گروہ کا نام لیے کہا کہ آئین ہر شہری کو اپنے مذہب اور روایات کے ساتھ عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، لیکن لالچ، دھوکے یا زبردستی مذہب تبدیل کرانا کسی کو بھی قبول نہیں ہونا چاہیے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج لال قلعہ کا میدان ہندوستانی جمہوریت کی حقیقی روح کی نمائندگی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ثقافتی اجتماع نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے اتحاد، تنوع اور بھائی چارے کا ایک بڑا پیغام ہے۔

خفیہ الرٹ میں لال قلعہ سے متصل تاریخی علاقے چاندنی چوک کے اہم مذہبی مقامات کو بھی خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ یہاں واقع دگمبر جین مندر، گوری شنکر مندر اور سیس گنج گوردوارہ روزانہ ہزاروں عقیدت مندوں کی آمد کا مرکز ہیں،

لال قلعہ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر ڈاکٹر مُزمل سمیت دیگر گرفتار ملزمین کی ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔

افسران کے مطابق، ان افراد کو ایک خصوصی ٹیم نے خفیہ آپریشن کے دوران شہر کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے دہلی بھیجا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ دہلی بم دھماکوں کے قصورواروں کو سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ کوئی بھی اسے دہرانے کی ہمت نہ کرے۔ وزیر داخلہ آن لائن میڈیم کے ذریعے سے گجرات کے ایک اسکول کی افتتاحی تقریب کو خطاب کر رہے تھے۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مجرموں کی حرکتوں کی سزا پوری وادی کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کشمیری کو دہشت گرد قرار دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ سوچ ملک کے اتحاد و امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے بتایا کہ ریاست میں ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دہلی دھماکے کے حق میں یا ملک مخالف تبصرے کیے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ”دہلی بم دھماکوں کے بعد قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں آسام بھر سے اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے“۔

مرکز کی مودی حکومت نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیش آئے کار دھماکے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردانہ واردات قرار دے دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت بدھ کو منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ حکومت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔