Bharat Express DD Free Dish

Rajouri

فوجی اہلکار گزشتہ شام سے علاقے میں جاری دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کو مضبوطی دینے جا رہے تھے۔ یہ آپریشن 48 راشٹریہ رائفلز کے علاقے میں ہو رہے ہیں۔

فوج اور جموں و کشمیر پولیس کے مشترکہ محاذ کی طرف سے محاصرے اور تلاشی آپریشن کے دوران ملی ٹینٹوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والا انکاؤنٹر جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ملنے کے بعدفوج نے پولیس کے ساتھ مل کر کالاکوٹ کے علاقے میں بروہ اور سوم کے جنگل کےعلاقے کو پیر کی علی الصبح گھیرے میں لے لیا۔

اہلکار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے پیر (11 ستمبر) کی شام پترادا علاقے کے جنگلاتی علاقے میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی بھی شروع کی تھی اور دو لوگوں کی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں پر فائرنگ بھی کی تھی۔

پولیس افسر نے بتایا کہ، "حادثے کے وقت گاڑی میں کل 12 افراد سوار تھے۔ مقامی لوگوں اور پولیس نے سبھی کو باہر نکالا اور تھانہ منڈی کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال لے گئے جہاں ان میں سے چار کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

ان کوششوں سے ضلع میں انتظامیہ اور شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جو راجوری کے شہریوں کو شکایات کے ازالے کے لیے ایک  موثر طریقہ کار فراہم کرتا ہے

شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اپیندر دویدی آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے گراؤنڈ زیرو پر ہیں جہاں فوجیوں نے انھیں بتایا کہ دہشت گردوں کے ساتھ انکاؤنٹر کیسے شروع ہوا

ہندوستان ٹائمز کے مطابق دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیویندر آنند نے بتایا کہ دہشت گردوں سے ہفتہ کی صبح  سویرے دہشت گردوں  اورسیکورٹی فورسز کےدرمیاں فائرنگ ہوئی

دو مقامی نوجوانوں کی پراسرار موت کے حوالے سے مقامی لوگوں کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہروں کی وجہ سے راجوری جموں (Rajouri) ہائی وے کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اضافی سیکورٹی فورس کو فوری طور پر موقع پر بھیجا گیا ہے۔