Bharat Express DD Free Dish

Rajouri

راجوری اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ماضی میں بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی فورسز مسلسل چوکس رہی ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

تازہ مشاہدات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند دن قبل سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی رات سانبہ ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب گھگوال کے پالوڑا گاؤں سے مبینہ طور پر پاکستان سے آئے ایک ڈرون کے ذریعے گرائی گئی اسلحے کی کھیپ برآمد کی تھی۔ حکام کے مطابق اس برآمدگی میں دو پستول، تین میگزین، 16 کارتوس اور ایک گرینیڈ شامل تھا۔

مرکزی حکومت کی اہم فلاحی صحت بیمہ اسکیم آیوشمان بھارت - پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا جموں و کشمیر میں عوام کے لیے کسی نعمت سے کم ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت راجوری ضلع کے ہزاروں افراد کو اب تک مفت اور معیاری علاج کی سہولت مل چکی ہے۔

جموں و کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں پریشان کن ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 26 غیر مسلح افراد مارے گئے تھے۔ اس دہشت گردی کے واقعے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 سیاحوں کی جان چلی گئی ۔ اس کے بعد حکومت نے کئی سخت قدم اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی شہریوں کا ویزا بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

جموں کے سندر بنی علاقے میں جہاں یہ حملہ ہوا وہ ایل او سی سے متصل علاقے میں صبح سے سرچ آپریشن جاری تھا۔ صبح سے یہاں تلاشی مہم جاری تھی، جس دوران فوج کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔

جموں و کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں میں تین خاندانوں کے 17 افراد پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے۔ ان اموات کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

راجوری میں ایک ہی گاؤں کے کئی لوگوں کی موت کا معاملہ زیر بحث ہے۔ انتظامیہ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے اور صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور صحت سے متعلق کسی بھی تشویش کی اطلاع فوری طور پر حکام کو دیں۔

نوڈل افسر راجیو کمار کھجوریا نے پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سے الیکشن کمیشن اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی گائیڈلائنز کا حوالہ دیتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔

سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لیے علاقے کی فضائی نگرانی کر رہی ہیں۔ اس کے لیے ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ڈرون کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔