Bharat Express DD Free Dish

Prashant Kishore

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا، پٹنہ گریجویٹ حلقے سے ڈاکٹر انوج سنگھ نیرج کمار کے مقابل ہوں گے

بہار اسمبلی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس میں پی کے یعنی جن سوراج کے پرشانت کشور پر این ڈی اے کو فائدہ پہنچانے کے لیے بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ آئیے جانیں اس کی بنیاد کیا ہے؟

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران ووٹ چوری کا معاملہ اٹھائے جانے پر جن سوراج کے لیڈر پرشانت کشور، یعنی پی کے، نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل انتخابی مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نتیش کمار اور وزیراعظم نریندر مودی دونوں پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ 15 برسوں میں ریاست میں صنعتی ترقی کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔

جن سوراج پدیاترا کی قیادت کر رہے پرشانت کشور نے امت شاہ اور دھرمیندر پردھان پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں لیڈروں کے دباؤ میں بہار انتخابات سے تین امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ پرشانت کشور نے امیدواروں پر دباؤ کا بھی الزام لگایا اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے متلعق  سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ اسی دوران جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور یعنی پی کے پر پارٹی کے اندر سے ہی سوال اٹھنے لگے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کی ووٹنگ کی تاریخ قریب آرہی ہے۔ اس درمیان جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے انتخابی نتائج کو لے کر اپنا اوپینین پول دیا ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ انہوں نے کس پارٹی کو کتنی سیٹیں دی ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر سبھی پارٹیاں اب اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں بھیج رہی ہیں۔ اسی درمیان جن سوراج پارٹی نے تاراپور اسمبلی حلقہ سے ڈاکٹر سنتوش سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نائب وزیر اعلی سمراٹ چودھری کو تارا پور سے میدان میں اتارا ہے۔

پون سنگھ کی اہلیہ جیوتی سنگھ نے پی کے سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ وہ ’چناؤ لڑنے یا ٹکٹ مانگنے‘ نہیں آئی ہیں۔ پی کے نے خواتین کے جمہوری حقوق کی حمایت کا اظہار کیا۔

ایسے میں جب ان سے کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک بار جب پارٹی 243 سیٹوں کے لیے امیدواروں کی فہرست جاری کر دے گی، تو اس طرح کے سوالات اپنے آپ  ختم ہوجائیں گے۔