2025 کے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے این ڈی اے کے اندر سیٹوں کی تقسیم کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ چراغ پاسوان اور مانجھی اسے روک رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے مطالبات کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یہ لیڈر بھی جن سوراج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج نے ایل جے پی رام ولاس کے ساتھ اپنے اتحاد کو لے کر ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
جن سوراج پارٹی کے قومی صدر ادے سنگھ نے پٹنہ میں پریس کانفرنس کے دوران ایک اہم بیان دیا۔ صحافیوں نے پوچھا کہ اگر چراغ پاسوان آتے ہیں تو کیا آپ ان کا استقبال کریں گے؟ انہوں نے کہا، “اگر ہم نے اپنی حکمت عملی کو واضح کر دیا ہوتو تب میں کوئی جواب دے پاتا ۔ فرض کریں کہ ہم چراغ پاسوان کے ساتھ کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم 243 سیٹوں پر اپنے ہی لوگوں کو میدان میں اتاریں گے۔ ہاں، چراغ پاسوان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کو ہمارے ساتھ ضم کردیں، توٹھیک ہے۔ جو وقار اور عزت چراغ پاسوان کو جن سوراج میں ملے گی وہ” بھارتیہ جنتا پارٹی میں مرکزی وزیر ہوتے ہوئے بھی نہیں مل سکتی‘‘۔
ادے سنگھ نے اس اتحاد کو ’’ٹھگ اتحاد‘‘ قرار دیا
ادے سنگھ نے این ڈی اے اور انڈیا الائنس کو ’’ٹھگ اتحاد‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “بی جے پی چراغ پاسوان کو دھوکہ دینا چاہتی ہے، چراغ پاسوان جیتن رام مانجھی کو دھوکہ دیں۔ دوسری طرف (گرینڈ الائنس) کی صورتحال وہی ہے… کانگریس آر جے ڈی کو دھوکہ دینا چاہتی ہے، آر جے ڈی کانگریس کو دھوکہ دینا چاہتی ہے۔
ایسے میں جب ان سے کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایک بار جب پارٹی 243 سیٹوں کے لیے امیدواروں کی فہرست جاری کر دے گی، تو اس طرح کے سوالات اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ ہم اپنے ہی لوگوں میں سے امیدوار چن رہے ہیں۔ ہم
ایک یا دو باہر کے امیدواروں کو ٹکٹ دے سکتے ہیں، ورنہ ہم ان لوگوں کو موقع دیں گے جو شروع سے جن سوراج کے ساتھ رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


