مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان سمیت بی جے پی لیڈروں کے دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے جن سوراج پارٹی کے تین امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ یہ الزام جن سوراج کے بانی پرشانت کشور نے لگایا ہے۔ انہوں نے پیر کو راجدھانی کے شیخ پورہ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بی جے پی پر حملہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے امیدوار کے ساتھ مرکزی وزیر کی تصویر بھی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ڈر کے مارے ایسا کر رہی ہے۔ پی کے نے کہا کہ دانا پور، گوپال گنج اور برہما پور کے امیدواروں نے خوف کی وجہ سے اپنے نام واپس لے لیے، لیکن 240 امیدوار ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہم بی جے پی کو ہرائیں گے، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں چاہے وہ کتنی ہی دھمکیاں دیں۔ ہم بی جے پی کے دانت کَھٹّے کر دیں گے۔
پی کے نے یہ بھی کہا کہ جن سوراج کو ووٹ کاٹنے والی پارٹی کہنے والی بی جے پی کو اب سب سے زیادہ ڈر جن سوراج سے ہی لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داناپور کے امیدوار اکھلیش کمار عرف مٹور شاہ نے ریاستی صدر منوج بھارتی سے انتخابی نشان قبول کیا لیکن اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے نہیں آئے۔ بی جے پی کے ارکان یہ دعویٰ کرتے رہے کہ آر جے ڈی کے غنڈوں نے انہیں یرغمال بنالیا ہے۔ تاہم وہ وزیر داخلہ امت شاہ اور بہار کے الیکشن انچارج دھرمیندر پردھان کے ساتھ تھے۔ ہم الیکشن کمیشن سے اس کی شکایت کریں گے۔
پی کے نے بکسر سے برہما پور کے امیدوار ڈاکٹر ستیہ پرکاش تیواری کی دھرمیندر پردھان کے ساتھ ایک تصویر جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ستیہ پرکاش تیواری ایک نامور ڈاکٹر ہیں اور پٹنہ میں ایک بڑا اسپتال چلاتے ہیں۔ انہوں نے امیدوار بننے کے بعد تین دن تک انتخابی مہم چلائی۔ کل صبح اچانک انہوں نے اپنی امیدواری واپس لے لی۔ ان کی تصویر دھرمیندر پردھان کے ساتھ ان کے گھر کی ہے۔ اسی طرح گوپال گنج کے ممتاز ڈاکٹر اور ہمارے امیدوار ڈاکٹر ششی شیکھر سنہا کا معاملہ بھی تشویشناک ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر نے ان سے رابطہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا۔ ڈاکٹر سنہا نے انہیں فون کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔ دو گھنٹے بعد انہوں نے اپنی امیدواری واپس لے لی۔
پرشانت کشور نے کہا کہ ان کی جانکاری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن سوراج کے 14 امیدواروں کو کئی طرح سے ڈرایا دھمکایا گیا ہے۔ کمہار سے ہمارے امیدوار پروفیسر کے سی سنہا کو بھی کافی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی طرح مقامی انتظامیہ والمیکی نگر کے امیدوار پر یہ دعویٰ کرتے ہوئے دباؤ ڈال رہی ہے کہ ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا ہے اور وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔
-بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

