Bharat Express DD Free Dish

Prashant Kishor

جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کو اتوار کے روز انتظامیہ نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے آبائی گاؤں کلیان بیگھہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر جاری سیاسی ہلچل کے بیچ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے اتوار کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

پرشانت کشور نے جمعہ کے روز جموئی میں وزیر اشوک چودھری پر سخت نشانہ لگایا تھا۔ جن سوراج کے بانی نے کہا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ ان کا (اشوک چودھری) سیاسی کردار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو ’’ٹکٹ خرید کر‘‘ ایم پی بنوایا۔ بہار کے کسی لیڈر یا پارٹی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہم پر ایک روپیہ بھی لینے کا الزام لگا سکے

پرشانت کشور نے آر جے ڈی صدر لالو یادو پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے لوگوں کو لالو یادو سے سیکھنا چاہیے کہ بچوں کی فکر کرنے کا کیا مطلب ہے۔ لالو یادو کے بیٹے نے نویں جماعت بھی پاس نہیں کی، پھر بھی وہ پریشان ہیں کہ ان کا بیٹا بہار کا راجہ بن جائے۔

جن سورج پارٹی کے بانی اورہندوستانی سیاست کے حکمت عملی سازپرشانت کشورپوری طرح سے بہارکے سیاسی میدان میں قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پرشانت کشورنے بہاراسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

بہار کی سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ آپ کی پارٹی میں طاقت نہیں ہے۔ اسمبلی کی چار نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے۔

پرشانت کشور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ذہنی حالت کی جانچ ہونی چاہئے۔ 13 کروڑ عوام کا سربراہ کتنا صحت مند ہے یہ سب کو پتہ ہونا چاہئے۔ اگر وزیراعلیٰ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو انتخابات میں ابھی 11 ماہ باقی ہیں۔ بہار کو 11 مہینے کون چلائے گا، عوام کو معلوم ہونا چاہئے۔

پرشانت کشور کو غیر مشروط ضمانت مل گئی ہے، انہوں نے ضمانتی مچلکے ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، وہ 8 بجے پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔

اس سلسلے میں جن سورج  پارٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پولیس پرشانت کشور کو ایمس لے گئی ہے۔ انہیں  باقی سب سے الگ کر دیا گیا ہے۔ پرشانت کشور نے کسی بھی طرح  کے علاج سے انکار کر دیا ہے۔

پرشانت کشور نے اپیل کی کہ بہار میں اب تک جتنے بھی احتجاج میں شامل لوگوں پر لاٹیاں چلی اور جن لوگوں نے لاٹھی کھائی ہے، روکر گھر چلے گئے ہیں، آئیے واپس آئیے۔ اس گاندھی میدان میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ وقت آ گیا ہے اپنے حق کی آواز متحد ہوکر بلند کرنے کا۔