Bharat Express DD Free Dish

Political Statement

کرن رجیجو کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی 8931 دن کی قیادت ایک ایسے سفر کی نمائندگی کرتی ہے جو انتھک محنت، اصولی سیاست اور عوامی خدمت سے عبارت ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے باعث فخر قرار دی جا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ سنگ میل نہ صرف ایک عددی ریکارڈ ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور مسلسل قیادت کی علامت بھی ہے۔ مودی کی طویل حکمرانی کو بھارت میں پالیسیوں کے تسلسل اور مضبوط مرکزی قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپے کی قدر 93 سے نیچے گرنا ایک خطرناک اشارہ ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی بڑھے گی اور عام آدمی پر اس کے براہِ راست اثرات پڑیں گے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے بتایا کہ وزیراعظم نے ذاتی طور پر فون کر کے ان کی صحت اور خیریت کے بارے میں دریافت کیا۔ یہ بات چیت دونوں کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔

آر جے ڈی کے ترجمان نے امریکی جارحیت کے خلاف ایران کے موقف کی بھرپور تائید کی اور مسلم ممالک کی غیرت و حمیت کو جگانے پر زور دیا۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ اس جنگ میں پوشیدہ مثبت امکانات دیکھ رہے ہیں اور ایران کی فتح عالمی امن و انصاف کی فتح ہوگی۔

این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا۔ کنگنا رناوت نے کہا کہ عوام اپوزیشن کے بہکاوے میں آنے والی نہیں ہے۔ ان کے مطابق عوام کو این ڈی اے حکومت اور وزیراعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اور اپوزیشن کو بھی عوامی مفاد میں سوچنا چاہیے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی نے بھی ایرانی سفارت خانے جا کر تعزیتی رجسٹر پر دستخط کیے اور خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی اور بھارت کے امن کے موقف کو دہرایا۔ نقوی نے کہا: ’’ہم ایران کے سپریم لیڈر حضرت علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔ بھارت، جو بدھ کی سرزمین ہے، ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے۔‘‘

مرکزی وزیرداخلہ کی شہریت کے تحفظ کی یقین دہانی، غیرقانونی دراندازوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ۔ امت شاہ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے دستاویزات کی جانچ کے بعد ووٹر لسٹ سے ممکنہ اخراج کے خدشات پر متوا برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال کا ’’جائز مطالبہ‘‘ صرف اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست نے بی جے پی کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے بیان کے مطابق ’’ہر انتخابی موسم میں وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ بنگال آتے ہیں اور ہمارے لوگوں، ثقافت اور مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن یہ محض دکھاوا ہے۔ بنگلا مخالف عناصر کو ہماری زبان، ہماری شناخت اور ہمارے وقار کی کوئی پروا نہیں۔‘‘

کانگریس کی ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ پروگرام بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئے عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف منعقد کیا گیا تھا، جس میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے بھی موجود تھے۔