Bharat Express DD Free Dish

Political Statement

نریندر مودی نے سکم کو ’’مشرق کا فخر‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی قدرتی خوبصورتی، سکون اور روحانی فضا کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کا ماحول انسان کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جو خوش نصیبی سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ 

نریندر مودی نے کہا کہ بنگال میں تبدیلی کی لہر کی قیادت خواتین کر رہی ہیں کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی سب سے بڑی متاثرہ ہیں۔ انہوں نے آر جی کر اور سندیش کھالی جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت عصمت دری کے ملزمان اور غنڈوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

وزیراعظم نے ٹی ایم سی پر بدعنوانی، کٹ منی اور سنڈیکیٹ راج کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ بنگال کی ترقی رک گئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نتائج میں ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

’’نہ بھولیں گے، نہ چھوڑیں گے‘‘ پہلگام کی برسی پر دہشت گردی کے خلاف مسلم راشٹریہ منچ کا شدید غصہ، اندریش کمار نے سخت لہجے میں کہا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کوئی عارضی قدم نہیں بلکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہنے والا مشن ہے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تنازع لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ایک نازک جنگ بندی فی الحال قائم ہے، تاہم اس کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں خواتین کو ان کا حق دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، مگر اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین اس سب کو دیکھ رہی ہیں اور وقت آنے پر فیصلہ کریں گی۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔