Bharat Express DD Free Dish

Political News

پی ایم مودی نے یاد دلایا کہ گیا جیسے شہر ‘‘لالٹین راج’’  میں اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ ہزاروں دیہات ایسے تھے، جہاں بجلی کے کھمبے تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا:"نہ تعلیم تھی، نہ روزگار۔ بہار کی کئی نسلیں ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔"

یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام کے ایک دن بعد پیش آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک شخص درخت کا سہارا لے کر دیوار پر چڑھا اور پھرپارلیمنٹ کے احاطے میں کود گیا۔

انہوں نے مزید کہا:"آن لائن منی گیمنگ عوامی صحت کا خطرہ بن چکا ہے۔ اس سے نفسیاتی مسائل، مجبوری کی عادات، پرتشدد رویے جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ کئی خاندان برباد ہو چکے ہیں۔ اس کا ایک اور خطرناک پہلو منی لانڈرنگ ہے، اور اس کے اثرات دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس کو روکنے کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن یہ مسئلہ بڑھتا گیا۔"

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا، "آج پی ایم یہاں سے ریاست بھر میں بجلی، سڑک اور شہری ترقی سے جڑی 14 منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں، دو ٹرینوں کو بھی ہری جھنڈی دکھا رہے ہیں۔ ان سب کی لاگت 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد ہے، ان تمام سے بہار کو بہت فائدہ پہنچے گا۔"

سماج کو پیچھے لے جانے والی روایات اور پابندیاں اب ناقابلِ قبول ہیں۔سچا قائد وہی ہےجو خود احتسابی کرے اور یہ تسلیم کرے کہ جہالت اور انتہاپسند سوچ نے مسلم معاشرے کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔

سب سے اہم سوغات ہے گنگا ندی پر بنا ملک کا پہلا اور سب سے چوڑا چھ لین والا پل۔ یہ پل موکاما کے اوٹا سے لے کر بیگوسرائے کے سمر یا کے درمیان گنگا پر بنایا گیا ہے۔

پروین کھنڈیلوال نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:" وزیراعلیٰ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور پہلے کی طرح دہلی والوں کے کاموں میں پوری مستعدی سے مصروف ہیں۔"

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے پیغام میں کہا:“پیما کھانڈو جی کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔پی ایم مودی کی قیادت میں اروناچل پردیش کو ترقی کا مرکز بنانے اور وہاں کے عوام کو بااختیار بنانے میں آپ کی مخلص خدمت قابلِ ستائش ہے۔ میں آپ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کی پراتھنا کرتا ہوں۔”

واضح رہے کہ اس سے پہلے مارچ 2024 میں پی ایم مودی نے ملک کی پہلی زیرِ آب (انڈر واٹر) میٹرو سروس کا افتتاح کیا تھا، اور ہوڑہ میں ہُوگلی دریا کے نیچے سے میٹرو میں سفر بھی کیا تھا۔

ڈاکٹر شرما نے کہا کہ مہابھارت، گیتا، رامائن وغیرہ کی تعلیمات نہ صرف بچوں میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیتی ہیں بلکہ زندگی میں نظم و ضبط اور فرض شناسی کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہیں۔