پی ایم نریندر مودی نے گیا (بہار) میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور کانگریس پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ لالو یادو کی قیادت میں ‘‘لالٹین راج’’کے دور میں بہار لال دہشت کا شکار تھا، جہاں شام کے بعد باہر نکلنا بھی خطرناک ہو جاتا تھا۔
پی ایم مودی نے کہا کہ بہار کے ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ سیاست رہی ہے، جو صرف ووٹ بینک کو دیکھتی ہے، عوام کے مسائل کو نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آر جے ڈی اور کانگریس نے بہار کے غریبوں کو صرف ووٹوں کی گنتی سمجھا، ان کے دکھ سکھ، روزگار، تعلیم یا عزتِ نفس سے کوئی سروکار نہیں رکھا۔
لالٹین راج کا اندھیرا اور این ڈی اے کا ترقیاتی دور
پی ایم مودی نے یاد دلایا کہ گیا جیسے شہر ‘‘لالٹین راج’’ میں اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ ہزاروں دیہات ایسے تھے، جہاں بجلی کے کھمبے تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا:”نہ تعلیم تھی، نہ روزگار۔ بہار کی کئی نسلیں ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔”
اس کے برعکس پی ایم مودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کے تیز رفتار ترقی کو ترجیح بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج بہار میں بڑے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں شامل ہیں
گیا میں سب سے بڑا صنعتی زون (Industrial Area)
ٹیکنالوجی سینٹر کا قیام
نیا پاور پلانٹ شروع
اورنگ آباد میں پاور پروجیکٹ کی بنیاد
بھاگلپور میں نیا تھرمل پاور پلانٹ بننے والا ہے
کانگریس پر شدید تنقید
پی ایم مودی نے کہا کہ کانگریس کا بہار کے عوام سے رویہ ہمیشہ توہین آمیز رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت میں کانگریس کے ایک وزیر اعلیٰ نے اسٹیج سے کہا تھا کہ “ہم اپنے راج میں بہاریوں کو گھسنے نہیں دیں گے”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہی کانگریس آج راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ مل کر پھر وہی پرانی سیاست دہرا رہی ہے۔
این ڈی اے کا عزم
اپنے خطاب کے آخر میں پی ایم مودی نے کہا:”ہمارا عزم ہے کہ بہار کے بیٹے بیٹیوں کو روزگار کے لیے باہر نہ جانا پڑے، وہ اپنے گھر میں باعزت زندگی گزاریں، اپنے خاندان کی دیکھ بھال کریں۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم کام کر رہے ہیں۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



