Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے، کیونکہ عوامی زندگی میں رہتے ہوئے انسان کے اندر ایک مثبت بے چینی کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی بے چینی بہتر کارکردگی، تیز رفتار اصلاحات اور مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک فراہم کرتی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرنے کے معاملے میں لوک سبھا سکریٹریٹ نے کانگریس کے 9 لیڈروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں تین دن کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں آج شام ’انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026‘ کا باوقار افتتاح عمل میں آیا۔ وزیر اعظم مودی نے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اسٹارٹ اپس کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ میگا ایونٹ 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ بھی منعقد کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی ممکنہ طور پر 27 اور 28 فروری کو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اگرچہ ابھی تک اس دورے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن اس خبر نے دونوں ممالک میں سفارتی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے امریکی یہودی تنظیموں کے اجلاس میں وزیراعظم مودی کے دورے کے حوالے سے جوش و خروش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مودی کا شاندار استقبال کریں گے۔

عالمی سربراہی اجلاس آج شام پانچ بجے دہلی کے معروف کنونشن سینٹر بھارت منڈپم میں باقاعدہ طور پر شروع ہوگا اور 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا۔ اسے کسی بھی ترقی پذیر ملک میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی مصنوعی ذہانت سربراہ اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ بھارت ہر صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کسی ایک واقعے یا آپریشن سے جڑا ہوا نہیں بلکہ یہ ملک کی طویل مدتی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر معاہدے میں زراعت، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا ہے اور کسی بھی طبقے کو غیر محفوظ نہیں چھوڑا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اب 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب اگلا بڑا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کیا یہ واقعی ’اب یا کبھی نہیں‘ جیسی صورتحال ہے، کہا کہ موجودہ حالات بھارت کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے پاس نوجوان اور ہنر مند آبادی کی بڑی طاقت موجود ہے، جو مستقبل کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

وزیراعظم مودی نے ایک حالیہ انٹرویو میں ملک کی معیشت، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم موضوعات پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اب دنیا کے ساتھ اپنی شرائط پر تجارت کر رہا ہے۔

تیسرے سوال میں انہوں نے ’’اضافی مصنوعات‘‘ کی اصطلاح پر وضاحت مانگی اور پوچھا کہ اس میں کون کون سی فصلیں شامل ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں دالوں اور دیگر اجناس کو بھی امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کا دباؤ بڑھے گا؟