Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

اس تاریخی کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے بھارت کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”مشن درشٹی کا کامیاب لانچ بھارت کی خلائی تحقیق میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔ یہ دنیا کا پہلا آپٹوسار سیٹلائٹ ہے اور ملک میں تیار کیا گیا سب سے بڑا نجی سیٹلائٹ بھی ہے، جو نوجوانوں کے جذبے اور اختراع کی بہترین مثال ہے“۔

اس گھڑی کی تنصیب کے پیچھے مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی مشترکہ کوشش شامل ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے یہ گھڑی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تحفے میں دی تھی، جسے 4 اپریل کو کاشی وشوناتھ مندر کے احاطے میں نصب کیا گیا۔

وزارت آیوش کی پالیسیوں اور روایتی علاج کے نظام جیسے یوگا اور آیوروید کے فروغ نے بھی بھارت کو ایک منفرد مقام دلایا ہے۔ جدید طبی سہولیات کے ساتھ ان روایتی طریقۂ علاج کے امتزاج نے غیر ملکی مریضوں کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے۔

اجے رائے نے طبیعت بگڑنے سے قبل شام کے وقت میڈیا سے گفتگو بھی کی تھی، جس میں انہوں نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،

وزیر اعظم اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مہاراشٹر ہمیشہ سے بھارت کی معاشی تبدیلی میں سب سے آگے رہا ہے۔ صنعت سے لے کر جدت (انوویشن) تک، مالیات سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، تجارت سے لے کر تخلیقی صلاحیتوں تک، بھارت کی ترقی میں مہاراشٹر کا کردار بے مثال ہے۔

نریندر مودی نے 1990 کی دہائی کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گجرات سیاسی عدم استحکام اور سماجی تناؤ کا شکار تھا اور بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ ریاست دوبارہ سنبھل نہیں پائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے لوک مانیہ تلک، ویر ساورکر اور سنت روایتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم شخصیات نے مہاراشٹر کی روح کو تشکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سال مہاراشٹر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کئی تاریخی شخصیات اور واقعات کی یاد اس سے جڑی ہوئی ہے،

وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں 11ویں مشن سربراہان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 2047 کے لیے بھارتی سفارتکاری کا روڈمیپ پیش کیا۔ انہوں نے سفیروں کو تجارت، ٹیکنالوجی اور تارکینِ وطن کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔

ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔

29 اپریل کو وزیر اعظم نے ایک اور سُبھاشِت کے ذریعے باشعور شہریوں کے فرائض پر روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمارا فرض ہے کہ ہم جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ووٹنگ کو یقینی بنائیں، تاکہ ملک کی تعمیر نو میں فعال کردار ادا کیا جا سکے۔