Bharat Express DD Free Dish

New year

تقریب کے مہمانِ خصوصی اور مقررشری روی شنکر تھے، جو ثقافتی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر اور “گنناچل” کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے بھارتی نئے سال کی ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فنون کے تحفظ، ثقافت کے فروغ اور روایات کو جدید دور میں زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

نئے سال 2026 کے موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈروں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور پرینکا گاندھی نے ملک کے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے خوشحالی، صحت، روزگار، کسانوں کی ترقی اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم مودی نے نئے سال 2026 کے موقع پر بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس وی کوانڈینیا کے عملے کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ان کی محنت اور لگن کی بھرپور تعریف کی۔

نیوزی لینڈ بھارت سے تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے پہلے، آسٹریلیا ساڑھے پانچ گھنٹے پہلے (بھارت میں اس وقت شام کے ساڑھے چھ بجتے ہیں)، جاپان ساڑھے تین گھنٹے پہلے، تھائی لینڈ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے، بنگلہ دیش آدھا گھنٹہ پہلے اور نیپال محض 15 منٹ پہلے نئے سال کا استقبال کرتا ہے۔

ایم ایم آر سی نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سفر کی پیشگی منصوبہ بندی کریں اور میٹرو خدمات کا درست استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ہی مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسٹیشن پر قواعد و ضوابط کی پابندی کریں تاکہ محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔ نئے سال کی شروعات کو مزید خاص اور آسان بنانے کے لیے ایم ایم آر سی کا یہ قدم قابلِ تحسین ہے۔

واضح رہے کہ نئے سال کے موقع سے منعقدہ اس پروگرام میں ایک طرف جہاں مذہبی رہنماوں نے ملک کی امن وسلامتی کیلئے دعائیں کی وہیں آشرم میں جمع ہونے والے عقیدت مندوں نے  نیک پربھات یگنا میں حصہ لیا۔

تیجسوی یادو نے خود کو ریاست کے لوگوں کا بیٹا، بھائی اور دوست بتاتے ہوئے یقین دلایا کہ بہار کو اس مقام پر لے جا کر کھڑا کیا جائے گا، جہاں سے ترقی کا سورج اور ترقی کا آسمان قریب نظر آئے گا۔

مرکزی کابینہ کے ایک اور فیصلے کے تحت کسانوں کے لیے انشورنس اسکیم کو مزید پرکشش بنانے کی تجویز کو منظوری دی گئی ہے۔ فصل بیمہ یوجنا کو آسان بنانے کے لیے اس کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کی جائے گی۔ اس سے سستی قیمتوں پر اور آسان قواعد کے تحت فصلوں کی بیمہ ہو سکے، اس کے انتظامات کیے جائیں گے۔

رات ٹھیک 12 بجے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں واقع ون ٹائمز اسکوائر کی عمارت کے فلیگ پول سے ایک چمکتی ہوئی گیند اترتی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہاں نئے سال کے آغاز کا جشن شروع ہوتا ہے۔

جس طرح شملہ میں سیاحوں کی بڑی بھیڑ دیکھی جارہی ہے۔ اسی طرح سیاحوں کی بڑی تعداد منالی بھی پہنچ رہی ہے۔ تاہم، شملہ کے مقابلے منالی میں سیاحوں کی تعداد قدرے کم ہے۔