Bharat Express DD Free Dish

NCPUL

پروفیسر ایم شافع قدوائی نے ماس میڈیا پینل کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ پینل ورکنگ جرنلسٹ کے لیے بہت اہم ہے۔ بنیادی مسائل سے عدم واقفیت کی بنا پر بسااوقات بہت سی فاش غلطیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام 23 اپریل 2025 کوعالمی یوم کتاب اورکاپی رائٹ (ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے 2025) کے موقع پریک روزہ بک کنکلیوکا انعقاد ہوا، جس کے تحت تین اجلاس ہوئے۔

پروفیسر افشار عالم نے صدارتی خطاب میں آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے دور میں کاپی رائٹ کافی اہم موضوع ہے کیونکہ اصل رائٹر اور کاپی رائٹ کا مسئلہ بہت اہم ہوجاتا ہے۔

اختتامی تقریب کے مہمان اعزازی پروفیسر غضنفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی اور افتتاحی پروگرام سے لے کر آخری سیشن تک اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے نہایت قیمتی نکات سامنے آئے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو ذریعہ تعلیم کا موجودہ منظرنامہ کئی اعتبار سے قابل غور و فکر ہے جس پر ہمیں توجہ دینے کے ساتھ موجودہ حالات کو بہتر بنانے کی ممکنہ صورتوں پر غور کرنا چاہیے

یوراج ملک نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو نہ صرف اقتصادی بلکہ فکری، سماجی، ثقافتی، روحانی اور لسانی ترقی کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ اب ہم اردو کو صرف ادبی اور ثقافتی مضامین تک محدود نہیں رکھ سکتے۔

پروفیسر احتشام حسنین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکست بھارت اس کانفرنس کا بنیادی تھیم ہے ، جس میں ہمارے ملک کے ثقافتی مظاہر کا اہم رول ہوگا ، انہی میں ہماری اردو زبان بھی ہے ، جس کے پاس الفاظ کا وسیع ذخیرہ ہے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس کانفرنس میں جہاں ہندوستان کے تمام اردو علاقوں اور متوازن صنفی نمائندگی پر توجہ دی گئی ہے، وہیں کناڈا ،آذربائیجان ،ازبیکستان، مصر، نیپال، قطر، یو اے ای سے بھی متعدد اردو دانشوران آن لائن و آف لائن شرکت کر رہے ہیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ و اشاعت کے لیے مختلف سطحوں پرکام کررہی ہے اوراس زبان کونئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

قومی اردو کونسل کے زیراہتمام ’ہندوستان کے لسانی تنوع میں مادری زبان کی اہمیت‘ پرمذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مجاہد آزادی سبرامنیا بھارتی کو بھی یاد کیا گیا۔