Bharat Express DD Free Dish

NCPUL

’اردوزبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظرمیں‘ کے عنوان سے قومی اردوکونسل کے سہ روزہ سمینارکا افتتاح کیا گیا۔ ڈائریکٹر شمس اقبال نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیرمیں تمام ہندوستانی زبانوں کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔

اردو اکادمی کے سکریٹری شوکت علی نے کہا کہ دلچسپی رکھنے والے امیدوار اکادمی کے دفتر سے درخواست فارم حاصل کرسکتے ہیں یا اسے اس کی ویب سائٹ www.upurduakademi.in سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اس موقع پر کہا کہ یونانی میڈیسن پینل بہت اہم پینل ہے۔ اس پینل کے تحت بہت سی اہم طبی کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ اس پینل کی کتابیں حوالے کے طور پرطلبا کے نصاب میں شامل ہیں۔

پروفیسر ایم شافع قدوائی نے ماس میڈیا پینل کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ پینل ورکنگ جرنلسٹ کے لیے بہت اہم ہے۔ بنیادی مسائل سے عدم واقفیت کی بنا پر بسااوقات بہت سی فاش غلطیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام 23 اپریل 2025 کوعالمی یوم کتاب اورکاپی رائٹ (ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے 2025) کے موقع پریک روزہ بک کنکلیوکا انعقاد ہوا، جس کے تحت تین اجلاس ہوئے۔

پروفیسر افشار عالم نے صدارتی خطاب میں آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹی فیشیل انٹلی جنس کے دور میں کاپی رائٹ کافی اہم موضوع ہے کیونکہ اصل رائٹر اور کاپی رائٹ کا مسئلہ بہت اہم ہوجاتا ہے۔

اختتامی تقریب کے مہمان اعزازی پروفیسر غضنفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی اور افتتاحی پروگرام سے لے کر آخری سیشن تک اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے نہایت قیمتی نکات سامنے آئے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو ذریعہ تعلیم کا موجودہ منظرنامہ کئی اعتبار سے قابل غور و فکر ہے جس پر ہمیں توجہ دینے کے ساتھ موجودہ حالات کو بہتر بنانے کی ممکنہ صورتوں پر غور کرنا چاہیے

یوراج ملک نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو نہ صرف اقتصادی بلکہ فکری، سماجی، ثقافتی، روحانی اور لسانی ترقی کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ اب ہم اردو کو صرف ادبی اور ثقافتی مضامین تک محدود نہیں رکھ سکتے۔

پروفیسر احتشام حسنین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکست بھارت اس کانفرنس کا بنیادی تھیم ہے ، جس میں ہمارے ملک کے ثقافتی مظاہر کا اہم رول ہوگا ، انہی میں ہماری اردو زبان بھی ہے ، جس کے پاس الفاظ کا وسیع ذخیرہ ہے۔