Bharat Express DD Free Dish

NCP Sharad Chandra Pawar

مہاراشٹر کے سیاسی گلیارے میں قیاس آرائیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور اس کی وجہ آج این سی پی (ایس پی) کے سبھی 8 اراکین پارلیمنٹ کی وزیراعظم مودی سے ہونے والی ملاقات ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ شرد پوار اوربی جے پی کے درمیان آخرکارکیا رضامندی بن رہی ہے۔

این سی پی اور این سی پی-ایس پی کے اتحاد کے بارے میں بات چیت کے درمیان، شرد پوار نے واضح کیا ہے کہ دونوں گروپ کے انضمام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ شرد پوار کے بیان سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ چچا-بھتیجے کے دونوں گروپوں کے ساتھ آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مہاراشٹر کانگریس کے سینئرلیڈر نانا پٹولے نے کہا کہ انضمام سے متعلق کوئی تبادلہ خیال نہیں ہے۔ یہ افواہ ہے۔ وہیں، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ انہوں نے یہ خبریں اخبارمیں دیکھی ہیں، لیکن انفرادی طورپرکچھ نہیں معلوم ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ ضرورکہا تھا کہ جن بھی پارٹیوں نے اپنے نام سے کانگریس نہیں ہٹایا، چاہے وہ ترنمول ہویا این سی پی ہو، انہیں واپس گھر لوٹنا چاہئے۔

 کانگریس میں شرد پوار کی پارٹی کے انضمام سے متعلق مہاراشٹرکانگریس کے سینئرلیڈر وجے ویڈیٹّی وار نے بڑا دعویٰ کردیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈر وجے ویڈیٹّی وار نے تصدیق کی ہے کہ کانگریس اور این سی پی (شرد پوارگروپ) کے درمیان انضمام سے متعلق ہائی کمان سطح پربات چیت چل رہی ہے۔

پوار نے زور دیا کہ این سی پی (ایس پی) پہلگام دہشت گردانہ حملے پر سیاست نہیں کرے گی، لیکن کانگریس اور بائیں بازو کے ساتھ ملک کی بہتری کے لیے قومی سطح پر کام کرتی رہے گی۔

مہاراشٹرمیں ابھی جوسیاسی حالات بن رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو2019 والی صورتحال کھڑا کردیا ہے۔ تب بی جے پی کو ادھو ٹھاکرے سے معاہدہ کرنا تھا، اب ایکناتھ شندے کو منانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

مہاراشٹرمیں اسی سال اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ ایسے میں مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان سیٹ شیئرنگ سے متعلق بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس نے شیوسینا کو ایک فارمولہ دیا ہے، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ شیو سینا کو یہ پسند نہیں آیا ہے۔ اب اس پر مہاوکاس اگھاڑی کی آئندہ میٹنگ میں اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

مہاراشٹر کے ایم ایل سی الیکشن میں پہلے سے ہی خدشہ ظاہرکیا جا رہا تھا کہ کسی نہ کسی کا کھیل بگڑ سکتا ہے۔ اب جب نتیجے آگئے ہیں توب سے بڑا جھٹکا شرد پوارکولگا ہے۔

پوار نے کہا کہ اپوزیشن مہاراشٹر کی عوام کے سامنے متحد رہے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور موجودہ حکومت کو  برخاست کرنا اپوزیشن اتحاد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مہابھارت میں ارجن کا نشانہ مچھلی کی آنکھ تھی اسی طرح ہماری نظریں مہاراشٹر کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔

لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو کم سیٹیں ملی ہیں۔ اس ہارکی ذمہ داری لیتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس نے عہدہ چھوڑنے کی خواہش ظاہرکی تھی۔ حالانکہ پارٹی قیادت نے انہیں نائب وزیراعلیٰ عہدے پربنے رہنے کے لئے کہا تھا۔