Bharat Express DD Free Dish

National Security

مودی حکومت نے ثابت کیا کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ سے بچتے ہوئے بھی قومی مفاد اور خودمختاری کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں یہ مؤقف دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘

وزیراعظم مودی نے جمعرات کی صبح ایکس پر امت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ امت شاہ کی شاندار تقریر۔ انہوں نے قومی سلامتی، دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور آپریشن سندور کی کامیابی جیسے اہم امور پر حکومت کا موقف واضح طور پر پیش کیا۔

ایران کا یہ سخت مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں اسرائیل اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ اگرچہ فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، لیکن فضا میں ابھی بھی بے اعتمادی قائم ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ لڑائی کو طول دینا نہیں چاہتا، لیکن اپنی دفاعی تیاری میں کسی طرح کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کرے گا۔

آپریشن سندور میں ہندوستانی مقامی نظام بمقابلہ چینی نظام کی آزمائش تھی، وارفیئر کے ماہر جان اسپینسر نے کہا ہے کہ ہندوستان نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ نپے تلے اور باہمت انداز میں ردعمل دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔

ہند- پاک کشیدگی کے بعد کئی پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس جن میں ماورا حسین، صبا قمر، احد رضا میر، یمنا زیدی اور دانش تیمور شامل ہیں ہندوستان میں پھر سے ایکٹیو ہوگئے تھے جنہیں بعد میں بند کردیا گیا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کا پہلا سال مکمل ہو چکا ہے اور اس مدتِ حکومت کا بنیادی پیغام ایک ہے کہ ’’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘۔

آپریشن سندور کے بعد مرکزی وزیر داخلہ 29-30 مئی کو جموں و کشمیر کا اپنا پہلا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں اور فائرنگ کے متاثرین سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے 17 مئی کو 23 دہشت گردوں کے مددگاروں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں بھیج دیا ہے۔ ان کی گرفتاری پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کی گئی ہے۔