Bharat Express DD Free Dish

Muslim

13 سال کی عمر میں نکہت نے فیصلہ کر لیا کہ وہ باکسنگ میں ہی اپنا مستقبل بنائیں گی۔ انہوں نے ابتدائی تربیت اپنے چچا سے حاصل کی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سخت مشق جاری رکھی۔ صبح و شام کی طویل ٹریننگ، مسلسل محنت اور مضبوط ارادے نے انہیں آہستہ آہستہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانا شروع کر دی۔

 کنگ چارلس سوم نے نائجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو کے اعزاز میں روایتی شاہی لنچ منسوخ کر دیا۔ یہ فیصلہ صدر تینوبو کے روزہ دار ہونے کے پیش نظر کیا گیا، جسے عالمی سطح پر مذہبی احترام اور بین ثقافتی ہم آہنگی کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ہمانشی نروال نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس حملے میں ملوث ہیں انھیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔

ہندوستان میں کیڈیور آرگن عطیہ کی شرح بہت کم ہے اور ملک میں فی ملین افراد پر ایک سے بھی کم ہے۔ اس کے برعکس 70-80 فیصد اعضاء کا عطیہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔

مولانا شہاب الدین رضوی نے مزید کہا کہ "دہشت گردی ایک بیماری ہے، جس کا علاج ممکن ہے لیکن ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگانا سراسر غلط ہے۔ اشتعال انگیز باتیں کہنے والے صرف سیاست کر رہے ہیں۔

آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مسلمانوں میں جائیداد کی تقسیم پر پی ایم مودی کی تقریرپرنشانہ لگایا تھا۔ اویسی نے کہا کہ پی ایم مودی ایسے بیانات دے کر اکثریتی سماج میں خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سنگھ پریوار کے کچھ لیڈر جو یہاں آئے تھے انہوں نے اپنے سامنے بیٹھے لوگوں سے کہا کہ وہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ کا نعرہ بلند کریں۔ یہ نعرہ کس نے دیا؟ مجھے نہیں معلوم کہ سنگھ پریوار کو اس بات کا علم ہے کہ اس شخص کا نام عظیم اللہ خان تھا

ہندو پیروکار کاشی کے گیان واپی کمپلیکس میں واقع "واس جی کے تہہ خانے" میں پوجا کرتے ہیں۔ تاہم، اس تہہ خانے کی چھت مغلوں کی بنائی ہوئی مسجد سے ڈھکی ہوئی ہے… جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ ہندو فریق کے وکلاء کا کہنا ہے کہ تہہ خانے کو گرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔

...جب جاوید اختر سے پوچھا گیا کہ انہیں سوشل میڈیا پر 'جہادی' کہا جاتا ہے اور مختلف طریقوں سے ٹرول کیا جاتا ہے۔تو ان کا ردعمل کیا  ہوتاہے؟ اس پر جاوید اختر نے کہا کہ

مورچہ کے نائب صدر عبدالحکیم حواری نے کہا کہ مظالم کی روک تھام ایکٹ 1989 کے نفاذ سے سماجی مظالم پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے۔ اگر اس قانون میں مسلمانوں کو شامل کیا جائے تو فرقہ وارانہ تشدد بھی بند ہو جائے گا جو کہ قومی مفاد میں بھی ضروری ہے۔