Bharat Express DD Free Dish

Mojtaba Khamenei

 ایران کے سپریم لیڈر کے ہندوستان میں نمائندہ آیت اللہ حکیم الٰہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای خود اس تدفین تقریب میں شامل ہوکر اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔

ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں نے ایران کے ساتھ عرب امن مفاہمت نامہ کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز اور جوہری معائنے کے بارے میں امریکی دعووں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے بداعتمادی مزید گہری ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے ہتھکنڈے امن کے عمل کو پٹری سے اتار کرجنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اورامن کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

شہباز شریف نے مزید بتایا کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی گزشتہ روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ معاہدہ "آنے والے چند دنوں" میں طے پا سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے امکانات 80 سے 85 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، اگرچہ بعض حساس نکات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی تجارتی جہازوں پر ہونے والے امریکی حملے، جن میں کم از کم تین بھارتی شہری ہلاک ہوئے، امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کی مثال ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ماجد موسوی نے کہا کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو ایران پورے خطے کو اس کے لیے "جہنم" بنا دے گا۔انہوں نے کہا، "کیا آپ مقدس آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں؟ ہم پورے ایران سے اس خطے کو آپ کے لیے جہنم بنا دیں گے۔"

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان سے وابستہ افراد نے بتایا کہ جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف بدھ کی صبح اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ دونوں لیڈر اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے اور ممکنہ سیزفائر و مستقبل کی ڈیل پر بات چیت کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ان کے ہمراہ سابق صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایلچی اسٹیو اور سینئر مشیر جیرڈ کشنربھی ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔