Bharat Express DD Free Dish

Mohamed Muizzu

مالدیپ کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ مسلسل مدتِ اقتدار کے اعتبار سے ہندوستان کے طویل ترین منتخب وزیر اعظم بننا ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے، جو وزیر اعظم مودی کی قیادت پر ہندوستانی عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے مالدیپ کے دورے کو لے کر ہندوستانی تارکین وطن کمیونٹی میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ مالدیپ میں رہنے والے ہندوستانیوں نے اس دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

خارجہ سکریٹری نے کہا کہ مالدیپ ہمارے پڑوس میں ہے اور ایک بہت ہی قریبی پارٹنر ہے۔ یہ ہندوستان کی ’پڑوسی اولین‘ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے اور اوشین ویژن کا بھی حصہ ہے، جو سلامتی اور ترقی کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ بحران کے وقت، چاہے قدرتی ہو یا انسان ساختہ، ہم نے ہمیشہ مالدیپ کی ضروریات کا فوری جواب دیا ہے۔ ہم نے باقاعدگی سے سیاسی دوروں کے ذریعے سے مزیز مضبوط ہو رہے ہیں۔

رندھیر جیسوال کا یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں آیا جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے  بحری سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری پر بات چیت کرنے کے لیے  مالدیپ کے اپنے ہم منصب عبداللہ خلیل سے دہلی میں ملاقات کی۔

ہندوستان کے ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے محمد نشید نے کہا کہ دباؤ ڈالنے کے بجائے ہندوستان نے سفارتی بات چیت کی تجویز پیش کی۔

محمد معیزو کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہندوستان اور مالدیپ کے تعلقات بہت بہتر تھے۔ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک کو چھوٹے بھائی کی طرح دیکھتا تھا۔ ہندوستان نے وہاں طبی انتظامات سے لے کر سیکورٹی تک کی ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ محمد معیزو 8 سے 12 جنوری کے درمیان چین کے دورے پر تھے۔ اس دوران چین نے ان کے ساتھ 20 معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

محمد معیزو نے تقریر کے دوران کہا کہ ہندوستان اور مالدیپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہندوستانی فوجی 10 تک اپنے ملک واپس جائیں گے۔ وہ 10 مارچ تک 3 ایوی ایشن پلیٹ فارمز میں سے 1 کو چھوڑ دے گا۔

پیپلز نیشنل کانگریس (پی این سی) اور مالدیپ کی پروگریسو پارٹی (پی پی ایم) کے حکومت نواز ارکان پارلیمنٹ سابق صدر ابراہیم محمد صالح کی قیادت میں مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی (ایم ڈی پی) کے خلاف احتجاج میں نکل آئے

مالدیپ کے صدر محمد معیزو کی پارٹی پیپلز نیشنل کانگریس (پی این سی) کو میئر کے انتخابات میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا