Bharat Express DD Free Dish

lucknow

امت شاہ نے 2014 سے پہلے یو پی اے کی قیادت میں برسوں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردانہ حملوں کو روکنے میں ناکام ہونے پر کانگریس پر تنقید کی۔

2017 مںھ ہندوستان کے لےص ڈیولا کرنے کے بعد سے، کلدیپ تمام فارمٹسں مں،، خاص طور پر ون ڈے مںم ایک قابل اعتماد کھلاڑی رہے ہںن، جہاں انوپں نے 180 سے زیادہ وکٹںط حاصل کی ہں ۔ ان کے ہنر مند تغرعات، خاص طور پر ’چائنا من ‘ ڈیلیوری، اکثر ہندوستان کے لےر گم چینجر ثابت ہوئی ہے۔ اپنی ذاتی زندگی مںن ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے، کلدیپ اب انگلنڈم مںو آنے والی بنل الاقوامی اسائنمنٹ پر نظر رکھںک گے، جہاں ٹمر انڈیا اپنے تجربے اور مہارت پر بھروسہ کرے گی، خاص طور پر ریڈ بال کرکٹ مںی۔

یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ توجہ کا مرکز بنا کیونکہ گورو گرگ یوپی پولیس کیڈر کی معروف آئی پی ایس افسر رویینہ تیاگی کے شوہر ہیں، جو اپنی سخت گیر اور ایماندار شخصیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ فی الحال دونوں میاں بیوی کی پوسٹنگ لکھنؤ میں ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور کافی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ اس کے علاوہ پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ فی الحال آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اتر پردیش ڈیفنس کوریڈور کے ایک حصے کے طور پر 300 کروڑ کی لاگت سے تیار ہونے والا ایک نیا براہموس میزائل پروڈکشن یونٹ 11 مئی کو لکھنؤ میں اپنے افتتاح کے لیے تیار ہے۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں اردو کے مشہور شاعر منور رانا کی بیٹیوں سمیہ رانا اور عروسہ رانا کو پولیس نے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔

ملزم ا جے کے خلاف پہلے ہی 23 سنگین مقدمات درج ہیں اور وہ اس سے قبل عصمت دری کے الزام میں جیل بھی جاچکا تھا۔ پولیس نے اس کی گرفتاری پر ایک لاکھ روپے کے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات میں سات پولیس اہلکار لاپرواہی کے لئے قصوروار پائے گئے، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

حادثے کو دیکھ کر قریبی لوگ سب سے پہلے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے انووا اور وین میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ انووا میں سوار لوگوں کو بھی باہر نکال لیا گیا ، لوگوں نے  پولیس کی  بھی مدد کی۔

یونانی طب گوکہ ہزارہا سال سے بیمار انسانیت کی خدمت انجام دے رہی ہے اور مختلف پیچیدہ امراض کے علاج میں اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے لیکن موجودہ دور کی ترقیات سے اس کا ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔

لکھنؤ میں واقع سہارا گروپ کے دفتر میں چھاپے کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے سہارا گروپ کے عہدیداروں سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ اس کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے دہلی اور کولکاتہ میں بھی چھاپے مارے ہیں۔