Bharat Express DD Free Dish

Lashkar-e-Taiba

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے اہلکار لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں مشتاق اور نثار سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو فی الحال جموں کی جیل میں 2023 کے راجوری حملے سے متعلق کیس میں قید ہیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آرایف) نے شروعات میں ذمہ داری لی تھی، لیکن ہندوستانی حکومت کے سخت اقدامات کے بعد ٹی آرایف نے اپنا بیان بدل دیا ہے۔ ٹی آرایف نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ہیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے سے انکارکیا ہے۔

پہلگام حملے کے بعد فوج جموں وکشمیرمیں زبردست ایکشن لے رہی ہے۔ باندی پورہ میں فوج نے لشکرکے ٹاپ کمانڈرالطاف الطاف لالی کوہلاک کردیا ہے۔ واضح رہے کہ فوج کوآج صبح باندی پورہ میں دہشت گردوں کے ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے محاذ سنبھالا تھا۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے  اسےموسٹ وانٹڈ قرار دیا تھا۔ وہ ہندوستان میں کئی بڑے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس کی تلاش فوج اور سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی تھی۔

لکشرطیبہ کے ڈپٹی لیڈرعبدالرحمان مکی کا دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے روح قبض ہوگئی۔ سال 2023 میں اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قراردیا تھا۔

ہندوستان میں مسلسل پاکستان لشکرطیبہ کے دہشت گردوں کے ذریعہ دہشت پھیلانے کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کا کئی بارتصادم بھی ہوا ہے۔

ملزمین میں سے تین فی الحال اس کیس میں مفرور ہیں، جو تعزیرات ہند، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج ہیں۔ابتدائی طور پر پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے پوچھ گچھ کے نتیجے میں ایک اور کو گرفتار کیا گیا تھا۔

این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق حبیب اللہ نے دیگر دو ملزمین ہلال اور مصعب کو تنظیم میں شامل کیا تھا، دونوں نے اس کے لیے اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عدنان کو اس کے گھر کے باہر گولی ماری گئی جس کے بعد پاکستانی فوج نے اسے خفیہ طور پر کراچی کے ایک اسپتال لے گئی۔ جہاں اس کی موت 5 دسمبر کو ہو گئی۔

شوپیاں کے الشی پورہ میں آج صبح سیکورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو مار گرایا۔ یہ تصادم پیر کی رات دیر گئے شروع ہوا۔ کشمیر پولیس زون نے انکاؤنٹر کی اطلاع دی۔