Bharat Express DD Free Dish

Kolkata Rape Case

کولکاتا آبروریزی اورقتل سانحہ کی مخالفت میں احتجاج کررہے ڈاکٹروں کا مطالبہ مرکزی حکومت نے تسلیم کرلیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ سینٹرل پروٹیکشن ایکٹ سے متعلق کمیٹی بنائے گی۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی اور اس کے دوستوں نے رات 12 بجے کے قریب کھانا آرڈر کیا تھا۔ یہ کھانا ایک آن لائن ایپ کے ذریعے منگوایا گیا تھا۔ کولکتہ پولیس نے اس ڈیلیوری بوائے کا بیان بھی درج کیا تھا۔

اس واقعے کو لے کر ڈاکٹروں کی 24 گھنٹے کی ہڑتال کے اعلان کے ساتھ ساتھ آئی ایم اے نے پانچ مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر  ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے کام کرنے اور رہنے کے حالات میں جامع تبدیلیوں کا مطالبہ اور کام کی جگہوں پر صحت کے پیشہ ور افراد کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے ایک مرکزی قانون شامل ہے۔

منور نے انسٹاگرام پر 12 سیکنڈ کا ویڈیو شیئر کیا ہے۔ جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا، ’’ مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے‘‘۔

آئی ایم اے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ماڈرن میڈیسن کے ڈاکٹر 17 اگست کی صبح 6 بجے سے 18 اگست کی صبح 6 بجے تک اپنی خدمات فراہم نہیں کریں گے۔

پی ٹی آئی کے مطابق، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ کی موت 'قتل' اور 'اینٹی مارٹم' کا معاملہ ہے۔ اس سے ان دعوؤں کی بھی نفی ہوتی ہے کہ مقتولہ کو قتل کے بعد بھی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لیے ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پریوار کو ممکنہ خودکشی کے بارے میں بتانے کی خبریں غلط ہیں۔

ڈاکٹر کے جسم پر کپڑے بھی نہیں تھے۔ اس کی ٹانگیں 90 ڈگری پر ایک دوسرے سے الگ تھیں۔ یہ اس تک نہیں ہو سکتا جب تک pelvic girdle ٹو ٹ نہ جائے، جس کا مطلب ہے کہ یہ پھٹ گئی تھی ۔ اس کا  چشمہ  ٹوٹ گیا تھااور آنکھوں میں شیشوں کے ٹکڑے تھے۔

ریزیڈنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن (RDA) ایمس، دہلی نے بھی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آر ڈی اے ایمس نے کہا، "ایمس کمیونٹی سنٹرل سیکورٹی ایکٹ کے نفاذ کے اپنے مطالبے کو دہراتی ہے اور آر جی کر میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں کو اپنی حمایت جاری رکھتی ہے۔"