Bharat Express DD Free Dish

JP Nadda

دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بی جے پی، ملک کی راجدھانی دہلی میں بکھری ہوئی نظرآتی ہے۔ کیونکہ پردیش بی جے پی میں لمبے وقت سے کئی ایسے لیڈران تنظیم میں اہم عہدوں پر بٹھائے جا رہے ہیں، جن کا زمینی سطح پر اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

 بی جے پی نے اپنے قومی عہدیدران کا اعلان کردیا ہے، جس میں یوپی کا دبدبہ نظرآرہا ہے۔ نائب صدور اور مہامنتریوں کی فہرست میں سب سے زیادہ نام یوپی کے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اس فہرست میں دو مسلم لیڈران کو جگہ ملی ہے، پرانے مسلم لیڈران کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔

بی جے پی نے حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی 391 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا جس میں بی جے پی کے 61 مسلم امیدواروں نے کامیابی بھی حاصل کی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تب بھی ہم نے ہمیشہ مثبت سیاست کی ہے۔ اپوزیشن میں ہم نے اس وقت کی حکومتوں کے گھوٹالے سامنے لائے لیکن عوام کے مینڈیٹ کی کبھی توہین نہیں کی۔ ہم نے حکمرانوں کے خلاف کبھی بیرونی طاقتوں کی مدد نہیں لی۔

بہار کے سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے سربراہ چراغ پاسوان این ڈے اے میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے انہیں دعوت نامہ بھیج دیا ہے۔

آئندہ لوک سبھا الیکشن 2024 اور ریاستی اسمبلی الیکشن کی تیاریوں میں بی جے پی مصروف ہوگئی ہے۔ اسی ضمن میں پارٹی نے تنظیم میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ منگل کے روز فوری اثر سے چار ریاستوں کے صدور بدلے گئے ہیں۔

میٹنگ میں بی جے پی نے ایک میگا پلان بھی تیار کیا ہے۔ جس میں ملک کو تین شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس میں نارتھ ریجن، ساؤتھ ریجن اور ایسٹ ریجن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملک میں آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا الیکشن سے متعلق سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ 2024 کے میدان کو فتح کرنے کے لئے سبھی سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ کی سیاست میں مصروف ہوگئی ہیں۔

کانگریس لیڈر پر نشانہ لگاتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ہندوستان ایک قوم نہیں بلکہ ریاستوں کا اتحاد ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس شخص کی سوچ پر اپنی مایوسی کا اظہار کروں جو ہندوستان کو ایک قوم نہیں مانتا۔ ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے۔

تری پورہ اور ناگالینڈ میں بی جے پی اتحاد نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اسے وزیر اعظم مودی اور پارٹی صدر جے پی نڈا کی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔