Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تشدد میں ملوث دیگر افراد کی بھی شناخت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 10 آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے پاس تشدد سے متعلق 40 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔

کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، "یہ ہمارے ہی ملک کے بچے ہیں، جو انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد اور انا کو ترک کرے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات سنے۔"پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے

 سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب لوگ احتجاجی مظاہرہ کرتے تھے تو انگریزان کی بات سنتے تھے، اسی لئے آج پوری دنیا میں گاندھی کا احترام کیا جاتا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرہ کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے درمیان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سی جے پی نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری تفصیل بتائی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچ گئے ہیں۔ اس احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی میں زبردست اضافہ کردیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کا مین گیٹ بند کردیا گیا ہے۔ پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لئے آنسوگیس کے گولے داغے۔

گزشتہ ایک ماہ سے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج جاری ہے، جہاں سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اس احتجاج کی حمایت میں بالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات بھی سامنے آئی ہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔