Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرہ کے درمیان کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے درمیان سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سی جے پی نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پوری تفصیل بتائی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچ گئے ہیں۔ اس احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی میں زبردست اضافہ کردیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت کا مین گیٹ بند کردیا گیا ہے۔ پولیس نے بھیڑ پر قابو پانے کے لئے آنسوگیس کے گولے داغے۔

گزشتہ ایک ماہ سے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج جاری ہے، جہاں سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اس احتجاج کی حمایت میں بالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات بھی سامنے آئی ہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔

سونم وانگچک کی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران تحریک کے منتظم ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کی کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔

نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک اور دیگر تمام مظاہرین کو دہلی پولیس نے جنتر منتر سے  جبراً ہٹا دیا۔ اتوار کی صبح کی گئی اس کارروائی کے دوران دھرنا مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

 ابھیجیت دیپکے نے کہا ، "میں سمجھ نہیں پاتا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اتنے بے حس اور مغرور کیسے ہو سکتے ہیں کہ انہیں ان خاندانوں سے رابطہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا ہے۔ آپ ان کے بچوں کو واپس نہیں لا سکتے، لیکن کم از کم ان سے مل کر افسوس اور معافی تو مانگ سکتے ہیں۔

اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔