Bharat Express DD Free Dish

سماجوادی پارٹی کا دعویٰ- ڈمپل یادو، اقرا حسن سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ حراست میں، اکھلیش یادو نے حکومت پر بڑا سوال اٹھایا

 سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب لوگ احتجاجی مظاہرہ کرتے تھے تو انگریزان کی بات سنتے تھے، اسی لئے آج پوری دنیا میں گاندھی کا احترام کیا جاتا ہے۔

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کی مین پوری سے رکن پارلیمنٹ اوراکھلیش یادوکی اہلیہ ڈمپل یادوکوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ سماجوادی پارٹی نے کیا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پرسماجوادی پارٹی نے اس ضمن میں بیان جاری کیا۔ سماجوادی پارٹی نے لکھا کہ دہلی میں طلبا کی آوازاٹھا رہیں لوک سبھا ایم پی ڈمپل یادواوردیگرسماجوادی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو پولیس کے ذریعہ حراست میں لیا جانا ساتھ ہی طلبا پرلاٹھی چارج کرنا بے حد قابل مذمت اورغیرجمہوری ہے۔

اس کے ساتھ ہی پوسٹ میں سماجوادی پارٹی نے لکھا کہ طلبا پرلاٹھی چارج اورظلم اس کی ذمہ دار بی جے پی حکومت ہے۔ بے حد قابل مذمت۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے کہا، ’’ہمارے اراکین پارلیمنٹ کوپولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے، بکہ باہربچوں کوپیٹا جا رہا ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے؟ آپ بچوں کی بات نہیں سننا چاہتے۔ اگرنیٹ امتحان ہوئے اوراس میں گڑبڑیاں ہوئیں تواس کے لئے کون ذمہ دارہے؟… آپ ’وشوگرو‘ بننا چاہتے ہیں، آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا ’امرت کال‘ میں ہے،  پھربھی آپ اپنے وزرا کونہیں ہٹا سکتے… آپ نے نوکریاں یا روزگارنہیں دیا۔ اگرنوکریاں دی گئی ہوتیں، توکیا بچے سڑکوں پراترتے؟ ابھی اہم سوال یہ ہے کہ NEET کے طلبا کو انصاف ملنا چاہئے اور یہاں احتجاج کررہے طلبا کے ساتھ اچھا برتاوکیا جانا چاہئے۔‘‘

اکھلیش یادو نے کہا کہ جب لوگ احتجاجی مظاہرہ کرتے تھے توانگریز ان کی بات سنتے تھے۔ اسی لئے آج پوری دنیا میں گاندھی کا احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے احتجاج کا راستہ دکھایا، جس طرح سے وہ مظاہرین کو ہٹا رہے ہیں، امید ہے کہ حکومت کوآخرمیں ’باعزت وداعی‘ نہ مل جائے۔

ڈمپل یادو نے احتجاج سے متعلق کیا کہا؟

اس سے پہلے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں طلبا کی بات سنی جائے، کیونکہ حالات اب برداشت سے باہرہوگئے ہیں۔ ملک کے کسان ہوں، ماحولیات کا موضوع ہویا نوجوان، ہرکوئی پریشان ہے، پھر بھی یہ حکومت نہ توکچھ سننے کوتیارہے اورنہ ہی کسی شکایت کا حل کرنے کو۔ طلبا بس منصفانہ امتحان چاہتے ہیں، لیکن یہ حکومت نہ تو منصفانہ امتحان کی حمایت کرتی ہے اورنہ ہی منصفانہ الیکشن کا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read