نئی دہلی : نیٹ پیپر لیک اور امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے ان کے مطالبات سنے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والے اپنے ہی ملک کے بچوں پر لاٹھی چارج کیوں کیا جا رہا ہے۔ سی جے پی کی جانب سے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک نکالے گئے مارچ کے دوران ہزاروں مظاہرین نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کیا،
#WATCH | Delhi | AAP national convener Arvind Kejriwal says, “The youth of our country are currently deeply distressed and angry. Consider the condition of our country’s examination system: first, there were paper leaks; then, a massive scam emerged in the UPSC evaluation… pic.twitter.com/TUTMUIG3LX
— ANI (@ANI) July 20, 2026
جس کے بعد سیاسی ردعمل بھی تیز ہو گیا۔اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے “غرور” کو چھوڑ کر نوجوانوں کی بات سننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے لاکھوں نوجوان جنتر منتر پر جمع ہوئے ہیں، لیکن ان کے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ احتجاج کے مقام کے اطراف انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف جانے سے روکا جا رہا ہے۔
दिल्ली के जंतर-मंतर पर चल रहे छात्र आंदोलन के बीच नसीरुद्दीन शाह अपने बेटों इमाद और विवान शाह के साथ पहुंचे।
उन्होंने कोई सार्वजनिक बयान नहीं दिया, बस शांत भाव से खंभे के सहारे खड़े होकर प्रदर्शन देखा।
पुलिस कार्रवाई के बाद बिखरते छात्रों को भी गंभीरता से देखा। उनकी मौजूदगी ने… pic.twitter.com/Ogg2XJ8k2Q
— Lakhan meena (@LakhanmeenaIND) July 20, 2026
کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، “یہ ہمارے ہی ملک کے بچے ہیں، جو انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد اور انا کو ترک کرے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات سنے۔”پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور طلبہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے کئی سینئر رہنما سی جے پی کے احتجاج میں یکجہتی کے اظہار کے لیے شریک ہوئے۔ ان میں دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ بھی شامل تھے۔
जंतर-मंतर पर देश का सारा युवा लाखों की संख्या में जमा हो गया है। सरकार उनकी बात सुनने की बजाय उनपे लाठी चार्ज करवा रही है। ये ठीक नहीं है।
मैं सरकार से appeal करता हूँ कि ये हमारे ही देश के बच्चे हैं जो न्याय मांगने सड़कों पर उतरे हैं। अहंकार छोड़िये और इनकी बात सुनिए। pic.twitter.com/7CNoTmx2tq
— Arvind Kejriwal (@ArvindKejriwal) July 20, 2026
پیر کے روز ہزاروں مظاہرین وسطی دہلی میں جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ نیٹ پیپر لیک اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا یہ احتجاج سماجی کارکن سونم وانگچک کے غیر معینہ مدت کے انشن کے بعد مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔واضح رہے کہ اتوار کو منیش سسودیا نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک نکالے گئے مارچ میں شامل ہوں اور نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام کی شفافیت بحال کرنے اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


