Bharat Express DD Free Dish

Jagdambika Pal

یوپی کے ڈومریا گنج کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کواسی پارلیمنٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف قانون کوئی نیا قانون نہیں ہے، لیکن اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ غلط برتاؤکررہے ہیں اورغلط طریقے سے اس کی تشریح کررہے ہیں۔

وقف ترمیمی بل 2024 کے لیے بنائی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین جگدمبیکا پال بجٹ اجلاس کے دوران پیر (3 فروری 2025) کو لوک سبھا میں رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔

شاہد سعید نے وقف املاک کے بہتر استعمال کے لیے تعلیمی مراکز، ہسپتال، ہنر مندی کے ادارے اور روزگار کے مراکز قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے وقف بورڈ کے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور جائیدادوں کے عوامی استعمال پر زور دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ قانون نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ پوری قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس کی حمایت ہر اس شہری کی ذمہ داری ہے جو ہندوستان کو ایک مساوات پسند اور ترقی پسند قوم کے طور پر دیکھتا ہے۔

وقف بل پر جے پی سی کی میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔ جے پی سی میں برسراقتدارکے 14 ترامیم کومنظورکیا گیا۔ اپوزیشن نے 44 ترامیم پیش کی تھیں، لیکن ان سبھی کونا منظورکردیا گیا۔ جے پی سی کی آئندہ میٹنگ 29 جنوری کو ہوگی۔

حزب اختلاف کے ممبران پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ 24 اور 25 تاریخ کو میٹنگ کے لیے شیڈول نوٹس دیا گیا تھا، اس لیے ہم نے 31 تاریخ کو پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کی وجہ سے 27 سے 30 تک حلقوں/ریاستوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

میر واعظ نے کہا کہ جے پی سی کو کشمیر میں بھی آکر لوگوں سے بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کمیٹی کے سامنے یہ بھی کہا کہ اس بل سے ہندوستانی آئین کے کئی آرٹیکلز کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

جن ارکان پارلیمنٹ کو جے پی سی سے معطل کیا گیا ہے ان میں اسد الدین اویسی، عمران مسعود، کلیان بنرجی، اروند ساونت، ناصر حسین، اے راجہ، محب اللہ ندوی، ایم ایم عبداللہ، ندیم الحق، محمد جاوید شامل ہیں۔

وقف ترمیمی بل-2024 کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ منگل کو لکھنؤ میں ہوئی۔ اس میں شیعہ وقف بورڈ نے 'وقف بل استعمال شدہ' جائیدادوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

جے پی سی کے چیئرمین جگدمبیکا پال نے مزید وقت کا مطالبہ کرتے ہوئے مدت کار بڑھانے سے متعلق تجویزلوک سبھا میں پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔

لال پورہ اور رام لال دونوں نے اس کتاب کو ملک میں سماجی اتحاد اور خیر سگالی کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ یہ دیگر کمیونٹیز کے لیے بھی تحریک کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اسے مسلم معاشرے کی خود انحصاری اور بیداری کی علامت کے طور پر دیکھا، جو قوم کی تعمیر کے لیے ایک سرشار کوشش کا حصہ۔ ہے۔