Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel war impact

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایسے حملے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر بھی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایران اور امریکہ-اسرائیل کے جاری حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا تناؤ دنیا کے تمام ممالک میں تیل اور گیس کے حوالے سے تشویش بڑھا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم اینتھنی البانیز نے جمعہ کو کہا کہ فی الحال آسٹریلیا کی ایندھن کی فراہمی بہتر لگ رہی ہے، لیکن آنے والے مہینوں میں یہ اور مشکل ہو جائے گی۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے بھارت، روس، چین، پاکستان اور عراق کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کے روز سونا اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، جس کے بعد 24 کیریٹ سونے کی قیمت 1.46 لاکھ روپے فی 10 گرام جبکہ چاندی کی قیمت 2.34 لاکھ روپے فی کلوگرام سے تجاوز کر گئی۔

مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازعات کے درمیان سونے کی قیمت 7,600 روپے گر گئی جبکہ چاندی 13,000 روپے سے زیادہ سستی ہو گئی ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ٹرمپ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے توانائی مراکز بھی ایران کی دسترس میں ہیں اور انہیں ایک ہی دن میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور دیگر شہری ڈھانچے پر ایران کے حالیہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکی قیادت نے خوش فہمی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت کے امریکی جنرل ولیم ویسٹمورلینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ فتح قریب ہے، لیکن 1968 میں ہونے والے “ٹیٹ حملے” نے ان دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔

ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔

ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیاء” کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی تیاری ہو رہی ہے، جن میں سعودی عرب کے تیل اور گیس پلانٹس بھی شامل ہیں۔