نئی دہلی :مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایران نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیل سعودی عرب کے تیل کے مراکز پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایران نے اس ممکنہ کارروائی کو “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا ہے، جس میں حملہ کوئی اور کرتا ہے مگر ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی جاتی ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب کی بڑی آئل کمپنی آرامکو کے تیل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی ہے۔ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیاء” کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی تیاری ہو رہی ہے، جن میں سعودی عرب کے تیل اور گیس پلانٹس بھی شامل ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس پر یا اس کے مفادات پر حملہ کیا گیا تو وہ کھل کر جواب دے گا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق وہ صرف امریکہ اور اسرائیل سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران-امریکہ جنگ میں شدت، 16 امریکی طیاروں کی تباہی کا دعویٰ،ایران نےکہا- F-35 بھی نشانے پر
سعودی تیل تنصیبات پر ممکنہ حملے سے عالمی منڈی میں ہلچل کا خدشہ
سعودی عرب اس معاملے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں میں شامل آرامکو کے اہم پلانٹس موجود ہیں۔ اگر ان تنصیبات پر حملہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ممکنہ حملوں کی صورت میں اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہاز پھنسے ہوئے ہیں، جن میں بھارت کے کئی جہاز بھی شامل ہیں، اور ان پر تیل و گیس لدی ہوئی ہے۔ ایران کے اس دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیل کی قلت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



