Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War: ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز، 165 بچیاں بھی جاں بحق — تہران کا امریکہ اور اسرائیل پر سخت ردعمل

ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔

نئی دہلی :ایران میں جاری کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 165 بچیاں بھی شامل ہیں۔ تہران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی نے ان مشترکہ حملوں کو “غیر قانونی” اور “غیر ضروری جنگ” قرار دیا ہے۔فواد ایزدی کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی طرح امریکہ کے لیے خطرہ نہیں تھا، اس کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا، جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے دباؤ پر کی گئی، جو خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل امریکی فوجی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک بشمول بھارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جیسا کہ 1953 کی بغاوت کے دوران کیا گیا تھا۔

ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق آئل ریفائنری عام طور پر فوجی ہدف نہیں ہوتیں، لیکن جب ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔

فواد ایزدی نے خبردار کیا کہ یہ تنازع صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سیاسی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا بھر کے لیے تشویش کا باعث ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read