Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel tensions

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ فوری طور پر امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو روکنے کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عالمی تجارت کے تحفظ اور غیر قانونی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

پی کے سہگل نے کہا کہ چاہے آبنائے ہرمز کھلی رہے یا بند ہو جائے، آنے والا وقت پوری دنیا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بھارت کو طویل مدت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں بلکہ جاری سیزفائر معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو ہفتوں کے لیے طے پانے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے، تاہم اسرائیل اور امریکہ اس موقف کو مسترد کر چکے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔

دوسری جانب تہران میں جاری کشیدگی کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ عبدالمظہر محمد خانی، جو تہران کے میئر کے ترجمان ہیں، انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے باعث رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔