Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel tensions

وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، ایسے وقت میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی عوام کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیح ہمیشہ عام شہریوں کی فلاح و بہبود رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم میزائل کے ٹکڑے زمین پر گرنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد غیر ملکی شہری تھے جن میں ایک کا تعلق بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایران نے اب تک اسرائیل پر سب سے بڑے میزائل حملے میں 500 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے مطابق صرف 24 مارچ کی رات میں ہی 220 میزائل ایک ساتھ داغے گئے جو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین اہم جوہری مراکز — نطنز ، اصفہان اور فوردو کو بند کرے ۔ ساتھ ہی ایران کو اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معطل کرنے کو کہا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کی لہر اب فلپائن تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کشیدگی نے انٹرنیشنل انرجی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے فلپائن نے منگل کو ’نیشنل انرجی ایمرجنسی’ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلپائن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انرجی بحران کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔

ایران کے فوجی ہیڈکوارٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا، "ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کی جانب سے بات چیت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ امریکہ نے ہمارے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی، جس کے بعد پیچھے ہٹنا خطرے سے بچنے کی کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز پر ہمارا موقف برقرار ہے"۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہوئی یا بڑے پیمانے پر پھیلی تو لاکھوں دیگر بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ماری گئی تعداد میں 206 بچے ایران میں، 118 لبنان میں، 4 اسرائیل میں اور ایک کویت میں شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ہر دن تقریباً 87 بچے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تنازعات کو کم کرنا اور خطے میں امن قائم کرنا بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر عہدیدار شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان، ترکی اور مصر نے پردے کے پیچھے ثالثی کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔