Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel tensions

ایران میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ اگر ملک میں اقتدار کی تبدیلی یا ممکنہ تختہ الٹ ہوتا ہے تو کیا رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ سکتے ہیں۔ حالیہ بیانات، علاقائی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کی سرگرمیوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔

اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو ایران بھر میں کیے گئے ہدفی فضائی حملوں میں ایران کے وزیر دفاع سمیت اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ ترین فوجی حکام ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 7 سینئر ایرانی عسکری کمانڈرز مارے گئے۔

ایران کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاسی حلقوں میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اقتدار براہ راست خاندانی دائرے میں منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے درمیان ایران نے اپنی عسکری قیادت میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے احمد واحدی کو اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی و فوجی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے، مختلف لیڈروں کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔ جانئے بھارت میں کس نے کیا کہا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے فوجی آپریشن کا مقصد ایران کو آزاد کرانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ وہاں کی فوج اپنے ہتھیار ڈال دے، انہیں معافی مل جائے گی، ورنہ اس حکومت پر موت برسے گی۔‘

اسرائیل نے ہفتہ کی صبح ایران پر اچانک پری ایمپٹو اسٹرائیک کرتے ہوئے پہلا حملہ کر دیا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اچانک انتہائی نازک اور خطرناک ہوگئی ہے۔ اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے شدید جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ایران نے جوابی کارروائیوں میں اسرائیل پر تقریباً 20 میزائل داغے، جن میں سے کچھ نے اسرائیل میں تباہی مچائی اور وہاں بھی ہلاکتوں کی بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی ،لیکن اسرائیل اپنے نقصانات کو چھپانے میں مشہور ہے،اس لئے حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

۔ ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے قطر میں امریکی ایئربیس پر میزائل حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے "امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے"۔