Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel tensions

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم مودی نے منگل کی دوپہر خلیجی خطے کے دو اہم رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نےعمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الصباح سے بات چیت کرتے ہوئے خطے کی تازہ صورتحال اور وہاں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دبئی میں قائم دبئی میں بھارتی قونصلیٹ جنرل نے متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے احتیاطی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ جاری بیان میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موجودہ حالات کے پیش نظر مکمل چوکسی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان قطر کی وزارت داخلہ نے عوام کے نام ایک اہم عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کسی بھی حادثے یا سیکیورٹی واقعے سے متعلق ویڈیو کلپس یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے چوتھے روز قطر اور بحرین دونوں کی جانب سے شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی نے خطے کو سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں تازہ حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر اعظم مودی نے عالمی برادری سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی دیر رات کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

یہ تمام طلبہ پونے کے معروف تعلیمی ادارے اندرا اسکول آف بزنس اسٹڈیز سے تعلق رکھتے ہیں اور سالانہ تعلیمی مطالعاتی دورے کے تحت پانچ روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے دبئی گئے تھے۔ ادارے کے حکام کے مطابق 40 طلبہ کو ہفتہ کے روز بھارت واپس آنا تھا جبکہ باقی 44 طلبہ و طالبات کی واپسی اتوار کو طے تھی، تاہم خطے میں اچانک پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے تمام پروازیں متاثر کر دیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل فوجی حملوں نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خامنہ ای کی موت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے بیان کے بعد عالمی سطح پر زیر بحث آئی، جس کے بعد ایران میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم اس واقعے نے بھارت میں ایک اہم سوال کو جنم دیا کہ آیا خامنہ ای بھارت کے دوست تھے، دشمن یا صرف ایک شراکت دار۔