Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Controversy

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ اسرائیل میں چو طرفہ  دہشت کا ماحول ہے اور سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ اس درمیان ٹرمپ نے ایرانی عوام سے بغاوت کی اپیل کردی۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

اتوار کو پینٹاگون میں وزیر دفاع کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ اسے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا تھا۔

حکومت کے فیکٹ چیک یونٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ "کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے دوران امریکہ نے ہندوستانی فضائی حدود کا استعمال ایران کے خلاف طیارہ بھیجنے کے لئے کیا تھا۔

اسرائیل اورایران کے درمیان جاری جنگ میں امریکہ کے داخلے کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ہفتے کی رات امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پرحملہ کیا۔ دوسری جانب، ایران کی درخواست پرپاکستان، چین اورروس کی حمایت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا نے ایک اسرائیلی ہرمیس 900 ڈرون کی فوٹیج شائع کی ہے ،جسے آج ہی ایرانی  فوجیوں نے مار گرایا تھا۔ لرستان نیوز آؤٹ لیٹ نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ ڈرون کو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) فورسز کی جانب سے صوبہ لرستان کے خرم آباد میں ایک آپریشن کے دوران مار گرایا گیا۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی پر ہندوستان کی خاموشی اور اب ایران کے خلاف کشیدگی میں بلا اشتعال اضافہ ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات سے انحراف ہے۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی-7 سربراہی اجلاس درمیان میں ہی چھوڑکرچلے گئے۔ اب انہوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون پر بھی تنقید کی ہے۔

ہم نے دیکھا کہ 1914 اور 1919 کے درمیان کیا ہوا۔ ہم نے دوبارہ دیکھا کہ 1939 اور 1945 کے درمیان کیا ہوا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سرد جنگ کے دوران کیا ہوا تھا۔ کیا ہمیں اسے دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے؟ میں ایسا نہیں سمجھتا.