Bharat Express DD Free Dish

International Relations

وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ بھارت اور ملائیشیا نہ صرف اپنے تاریخی رشتوں کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں بلکہ مستقبل میں خطے کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہیں۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی دعوؤں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ زیلنسکی نے پوسٹ میں کہا: ’’یہ دعویٰ ایک مکمل جعل سازی ہے جس کا مقصد یوکرین پر مزید حملوں کے جواز فراہم کرنا اور روس کو جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے روکنا ہے۔ یہ روس کی عام جھوٹ ہے۔‘‘

اردن کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی ایتھوپیا کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایتھوپیا ایک ایسا افریقی ملک ہے جس پر کبھی کسی یورپی طاقت نے قبضہ نہیں کیا۔ آبادی کے اعتبار سے یہ افریقہ کا دوسرا بڑا ملک ہے، جہاں 2024 کے مطابق تقریباً 13 کروڑ 21 لاکھ افراد آباد ہیں۔

سعودی عرب اور بھارت کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں انقلابی شراکت داری سے متعلق دہلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس، جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم اور رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ نمایاں طور پر شریک رہے۔

پانچ سال سے زائد عرصے کے بعد، ہندوستان اور چین کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے اعزاز میں کھڑے ہو کر بجائی گئیں تالیاں، ٹرمپ کی امن کوششوں، یروشلم کی تسلیم شدہ حیثیت اور جنگ بندی میں کردار پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم مودی نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: ’’فلپائن میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا۔ میری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ اس مشکل وقت میں بھارت فلپائن کے ساتھ ہے۔‘‘

ہیلسنکی سکیورٹی فورم 2025 میں خطاب کرتے ہوئے اسٹب نے کہا: ’’میں نے حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے یوکرین کی صورتحال پر بات کی ہے۔ بھارت کا یہاں ایک جغرافیائی سیاسی داؤ پر لگا ہوا ہے، اس لیے ہمیں انہیں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اسرائیل نے اس فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ اور ’’انتہائی نقصان دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔اطلاعات کے مطابق پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل کئی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، سنگاپور بھارت کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کا تقریباً 2.96 فیصد ہے۔ 2014 سے اب تک سنگاپور سے بھارت میں 175 ارب امریکی ڈالر کی مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) آ چکی ہے۔