Bharat Express DD Free Dish

International Relations

یہ وزیراعظم مودی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ کو وزیراعظم مودی نے ایک اعلیٰ معیار کی پشمینہ شال تحفے میں دی، جو لداخ کی چانگ تھانگی بکری کے نرم، ہلکے اور گرم اون سے بنی ہے۔ کشمیری کاریگروں کے ہاتھ سے بنائی گئی یہ شال ایک صدیوں پرانی روایت کی نمائندہ ہے، جو کبھی شاہی خاندانوں کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے بھارت اور فن لینڈ کے دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کوانٹم ٹیکنالوجی، 6G، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور پائیداری میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ روس کو چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی سازوسامان خریدنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات میں فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔

مودی حکومت نے ثابت کیا کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ سے بچتے ہوئے بھی قومی مفاد اور خودمختاری کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں یہ مؤقف دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے آخری بار اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر پیٹرولنگ معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اتفاق کیا کہ خصوصی نمائندے جلد ملاقات کر کے سرحدی امن اور حل طلب مسائل پر پیش رفت کریں گے۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

صدر زیلنسکی نے کہا ’’ہم نے روس کے خلاف پابندیوں پر بھی تفصیل سے بات کی۔ یہ ضروری ہے کہ ہر وہ رہنما جس کے پاس روس پر اثر انداز ہونے کی حقیقی صلاحیت ہے، ماسکو کو درست پیغام دے۔‘‘

کانگریس صدر نے واضح کیا کہ مودی حکومت اس ناکامی کی ذمہ داری 70 سال پرانی کانگریس پر نہیں ڈال سکتی، کیونکہ یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے جھکاؤ نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔