Bharat Express DD Free Dish

International Relations

آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہاتھ ملا کر آگے بڑھنا چاہئے۔ چین کی ہائی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں ہم تعاون کر سکتے ہیں۔ ژانگ شیاو کے مطابق ایس سی او سربراہی اجلاس بھارت اور چین کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اچھا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ، امریکی صدر کا دورۂ ہند منسوخ، دونوں حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

چین کو ہارڈ ویئر میں اور بھارت کو سافٹ ویئر میں برتری حاصل ہے۔ دونوں ممالک کی بڑی آبادی خود ایک بڑا بازار ہے۔ اگر بھارت، روس اور چین ایک ساتھ آ جائیں، تو وہ جی-7 ممالک کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر امریکہ کے ٹیرف کے خلاف دیگر ممالک ایک ہو جائیں، تو امریکہ کو یہ سمجھ میں آئے گا کہ دنیا اس کے حساب سے نہیں چلتی۔

یہ وزیراعظم مودی کا 2020 میں گلوان وادی میں تصادم کے بعد چین کا پہلا دورہ ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں تجارتی راستوں کی بحالی اور دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔

وزیراعظم مودی مودی کا جاپان کا دورہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بلیٹ ٹرین منصوبہ نہ صرف بھارت کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ ایشیا میں بھارت-جاپان شراکت کو بھی مستحکم کرے گا۔

یہ وزیراعظم مودی کا چین کا پہلا دورہ ہے جو 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیکھ پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔

جاپان کے وزیراعظم کی اہلیہ کو وزیراعظم مودی نے ایک اعلیٰ معیار کی پشمینہ شال تحفے میں دی، جو لداخ کی چانگ تھانگی بکری کے نرم، ہلکے اور گرم اون سے بنی ہے۔ کشمیری کاریگروں کے ہاتھ سے بنائی گئی یہ شال ایک صدیوں پرانی روایت کی نمائندہ ہے، جو کبھی شاہی خاندانوں کی پسندیدہ ہوا کرتی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے بھارت اور فن لینڈ کے دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے کوانٹم ٹیکنالوجی، 6G، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور پائیداری میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی حکمت عملی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ روس کو چینی ٹیکنالوجی کے بجائے امریکی سازوسامان خریدنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات میں فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔