Bharat Express DD Free Dish

International Relations

مودی حکومت نے ثابت کیا کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ سے بچتے ہوئے بھی قومی مفاد اور خودمختاری کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں یہ مؤقف دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے آخری بار اکتوبر 2024 میں روس کے شہر کازان میں برکس اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر پیٹرولنگ معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اتفاق کیا کہ خصوصی نمائندے جلد ملاقات کر کے سرحدی امن اور حل طلب مسائل پر پیش رفت کریں گے۔

بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری کی جانب پیش رفت، ایس سی او سربراہی اجلاس میں وزیراعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات بھی متوقع۔

صدر زیلنسکی نے کہا ’’ہم نے روس کے خلاف پابندیوں پر بھی تفصیل سے بات کی۔ یہ ضروری ہے کہ ہر وہ رہنما جس کے پاس روس پر اثر انداز ہونے کی حقیقی صلاحیت ہے، ماسکو کو درست پیغام دے۔‘‘

کانگریس صدر نے واضح کیا کہ مودی حکومت اس ناکامی کی ذمہ داری 70 سال پرانی کانگریس پر نہیں ڈال سکتی، کیونکہ یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے جھکاؤ نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اعزاز حاصل کرنے کے بعد کہا کہ  ہماری دوستی سیاست سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ جدوجہد، تعاون اور باہمی اعتماد سے بنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس اعزاز کو بھارت اور نمیبیا کے عوام، ان کی ترقی اور ہماری ناقابل شکست دوستی کے نام کرتا ہوں۔

نمیبیا، وزیراعظم مودی کے پانچ ملکی دورے کا آخری پڑاؤ ہے، جس میں وہ اس سے قبل گھانا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ارجنٹینا اور برازیل کا دورہ کر چکے ہیں۔

ہر ایک تحفہ اپنے اندر بھارت کی ایک الگ تہذیبی کہانی سمیٹے ہوئے تھا۔ یہ تحائف نہ صرف خیر سگالی کے پیغام رساں بنے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کے فنون، اقدار اور روحانی ورثے کو عزت و افتخار کے ساتھ پیش کیا۔ یہ تحائف صرف رسمی تبادلے کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی روح، روایت اور فنون کا عالمی تعارف ہیں۔

وزیراعظم مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت-ارجنٹینا تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرے گا بلکہ ہندوستانی برادری کی وابستگی اور ثقافتی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔